سُرمہ چشم آریہ — Page 177
روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید صفت محدود ہو جائے گی اور صفت کا محدود ہونا ذات باری کے محدود ہونے کو مستلزم ہے۔ (۱۷) بھلا وہ خدا کیسا ہوا جس کی ساری قدرتوں پر ایک ذرہ مخلوق محیط ہو جائے۔ اور ایسا پر میشر کس بات کا پر میشر ہے کہ اگر وہ کسی اپنے امر متخیل کو کہے کہ ہو جا تو کچھ بھی نہ ہو۔ خدا تو اسی ذات عجیب القدرت کا نام ہے کہ جو اس کے ارادہ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنے کسی امر مقصود کو کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ فی الفور اس کی قدرت کاملہ سے نقش وجود پکڑ جاتا ہے یہ راز نہایت دقیق معرفت کا نکتہ ہے کہ سب مخلوقات کلمات الہیہ ہیں۔ عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمتہ اللہ ہیں یعنی ان کی روح کلمہ الہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمتہ اللہ نہ ہو اور مجرد الہی حکم سے نہ نکلی ہو قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي اس کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ بصورت ارواح و دیگر مخلوق جلوہ گر ہو جاتی ہیں یہ خالقیت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اسرار الہیہ میں سے ایک بار یک نکتہ ہے جس کی طرف کسی انسانی عقل کو خیال نہیں آیا اور خدائے تعالیٰ کے پاک اور کامل کلام نے اس کو اپنے الہی نور سے منکشف کیا ہے اور اگر ایسا نہ مانا جائے کہ خدائے تعالیٰ اپنے ہی کلمہ اور امر سے ارواح اور اجسام کو وجود پذیر کر لیتا ہے تو پھر آخر یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک باہر سے اجسام اور روحیں نہ آویں پر میشر کچھ بھی نہیں کر سکتا مگر کیا ایسا کم بخت پر میشر ہوسکتا ہے کہ جو درحقیقت اپنے گھر سے تو دیوالیہ اور مفلس اور تہیدست ہے لیکن کسی عارضی اتفاق سے اس کی خدائی کا دھندا چل رہا ہو۔ اگر پر میشر ایسا ہی ہے تو سب امیدیں خاک میں مل گئیں اور ایسے پر میشر پر بھروسہ کرنا بھی بڑا معرض خطر ہو گا۔ اور یہ کہنا کہ خدائے تعالیٰ کی وہی قدرت قابل تسلیم ہے جو ہماری سمجھ میں آجائے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا نام جہالت رکھیں یا تعصب یا دیوانگی۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرتوں میں یہ بھی شرط ہے کہ انسان کے انداز کا فہم سے زیادہ نہ ہوں تو بس پھر اس کی قدرتیں ا بنی اسرائیل : ۸۶