سُرمہ چشم آریہ — Page 176
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۴ سرمه چشم آرید اس کو نہیں مانے گا مگر میں کہتا ہوں کہ یوں تو فاسد اور ناقص عقل کے مارے ہوئے خدائے تعالیٰ کو بھی نہیں مانتے لیکن جس شخص کی عقل سلیم ہے اس کو تو خدائے تعالیٰ کے ماننے کے ساتھ ہی اس کی وہ تمام صفات بھی ماننی پڑیں گی جو مدار اس کی خدائی اور الوہیت کی ہیں اور جو شخص خدائے تعالیٰ کی اس نہایت ضروری صفت کو مان لے گا کہ وہ قادر مطلق اور بے انتہا طاقتوں کا مالک ہے تو پھر ہر گز اس کی قدرتوں کو اپنی عقل ناقص کے ساتھ موازنہ نہیں کرے گا اور خدائے غیر محدود کی قادرانہ قوتوں کو کسی حد خاص میں محدود نہیں جانے گا۔ اور نیز جب ایک عقلمند دیکھے گا کہ خدائے تعالیٰ ایسا اپنی ذات میں مظهر العجائب و بلند تر از احاطۂ فکر و قیاس ہے جو بغیر اسباب آنکھوں کے دیکھتا ہے اور بغیر اسباب کانوں کے سنتا ہے اور بغیر اسباب زبان کے بولتا ہے اور بغیر حاجت معماروں و مزدوروں و نجاروں و آلات عمارت سازی و فراہمی اینٹوں و پتھروں وغیرہ کے صرف اپنے ارادہ اور حکم کے اشارہ سے ایک طرفہ العین میں زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو بے شک اس بات کا یقین بھی کرے گا کہ وہ قادر خدا نیستی سے ہستی بھی کر سکتا ہے یہی تو خدائی ہے اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادر مطلق اور غیر متناہی قدرتوں کا مالک کہلاتا ہے۔ اگر اس کے کام بھی انسانی کاموں کی طرح محتاج باسباب و مواد و اوقات ضرور یہ ہوں تو پھر وہ کا ہے کا خدا ہوا اور اس کی خدائی کیونکر چل سکے۔ کیا اس کے تمام کام بالاتر از عقل نہیں ہیں؟ کیا اس کی عجائب قدرتیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر نظر ڈال کر عقل ناقص انسانی خیرہ رہ جاتی ہے؟ تو پھر کیسی جہالت ہے کہ جو بات اس کی خدائی کا مدار اور اس کی الوہیت کی حقیقت ہے اس پر اعتراض کیا جائے۔ اگر اس قسم کے جاہلانہ و ہم دل سے اٹھ نہیں سکتے تو پھر ایسے ناکارہ اور عاجز پر میشر کو ماننا ہی کیا ضرورت ہے۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کے باریک بھیدوں پر عقل انسانی محیط ہو سکتی تو گویا خدائی کی ساری کیفیت وگنہ معلوم ہو جاتی اگر عقل انسانی کی نظر ناقص کسی صفت ربانی کے اول آخر پر پھر جائے تو وہ