سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 166

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۴ سرمه چشم آرید 101 خدائے تعالیٰ کے سارے حقوق کو ادا کرنے والا خیال کر لے اسی وجہ سے راست بازوں اور مقدسوں نے طریق تواضع اور فروتنی اور استغفار کو لازم پکڑا اور کبھی دعوی نہیں کیا کہ میں بکلی نیک اور بے گناہ ہوں حضرت مسیح علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ اے نیک استاد تو آپ نے یہ پیارا اور دلکش جواب دیا کہ میں نیک نہیں ہوں یعنی ایک گنہگار آدمی ہوں مجھے تو کیوں نیک کہتا ہے۔ سبحان اللہ معرفت الہی انہیں پاک لوگوں کے حصہ میں آئی تھی جنہوں نے کیسے ہی تقدس کی حالت میں بھی اپنے تئیں بے گناہ اور نیک نہیں سمجھا اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں کہ اپنے تئیں بے گناہ خیال کیا جائے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گناہ انسان کی سرشت کو ایک لازم غیر منفک ہے جس کا تدارک صرف رحمت اور مغفرت الہی کر سکتی ہے نہ کوئی اور چیز اور اگر خدائے تعالیٰ ہر ایک گناہ پر سزا دینے لگے اور استغفار اور تو بہ قبول نہ ہو اور فضل شامل حال نہ ہو تو بندہ کبھی نجات نہیں پاسکتا مثلاً اگر یہ سزا ہندوؤں کے اصول کے طور پر دی جائے یعنے جونوں میں ڈالا جائے تو اگر ہندوؤں کا پر میشر قطع نظر ایک لاکھ جون کے ایک گناہ کے عوض میں صرف ایک جون کی سزا پر ہی کفایت کرے تب بھی اس بے انتہا سلسلہ کا انقطاع محال ہے چہ جائیکہ ایک گناہ کے بدلے میں دو لاکھ کے قریب جون بھگتنی پڑے اور پھر اس گناہ سے فراغت ہو کر دوسرے گناہ کی سزا نئے سرے سے شروع ہو اور ایک طرف بندہ سزائیں پاتا جائے اور ایک طرف نئے گناہ جو اس کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہر دم اور ہر لحظہ اس سے صادر ہورہے ہیں انبار کے انبار جمع ہوتے جائیں۔ پس جبکہ حقیقت گناہ یہ ہے اور اس سے مخلصی پا نا عند العقل محال ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اگر کتی پانا اسی بات پر موقوف ہے کہ کسی قسم کا گناہ باقی نہر ہے اور کسی نوع سے خطا صادر نہ ہو سکے تو آریوں کے مکتی پانے کے کوئی پچھن نظر نہیں آتے ۔ اور فرض کے طور پر اگر مان بھی لیں کہ کوئی آریہ ان سب شرائط کو پورا کر کے کسی زمانہ