سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 166

روحانی خزائن جلد ۲ اولد سرمه چشم آریه ۱۰﴾ خدائے تعالیٰ کے سارے حقوق کو ادا کرنے والا خیال کرلے اسی وجہ سے راست بازوں اور مقدسوں نے طریق تواضع اور فروتنی اور استغفار کو لازم پکڑا اور کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں بکلی نیک اور بے گناہ ہوں حضرت مسیح علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ اے نیک استاد تو آپ نے یہ پیارا اور دلکش جواب دیا کہ میں نیک نہیں ہوں یعنی ایک گنہگار آدمی ہوں مجھے تو کیوں نیک کہتا ہے۔ سبحان اللہ معرفت الہی انہیں پاک لوگوں کے حصہ میں آئی تھی جنہوں نے کیسے ہی تقدس کی حالت میں بھی اپنے تئیں بے گناہ اور نیک نہیں سمجھا اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں کہ اپنے تئیں بے گناہ خیال کیا جائے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گناہ انسان کی سرشت کو ایک لازم غیر منفک ہے جس کا تدارک صرف رحمت اور مغفرت الہی کر سکتی ہے نہ کوئی اور چیز اور اگر خدائے تعالیٰ ہر یک گناہ پر سزا دینے لگے اور استغفار اور تو به قبول نہ ہو اور فضل شامل حال نہ ہو تو بندہ کبھی نجات نہیں پاسکتا مثلاً اگر یہ سزا ہندوؤں کے اصول کے طور پر دی جائے یعنے جونوں میں ڈالا جائے تو اگر ہندوؤں کا پرمیشر قطع نظر ایک لاکھ جون کے ایک گناہ کے عوض میں صرف ایک جون کی سزا پر ہی کفایت کرے تب بھی اس بے انتہا سلسلہ کا انقطاع محال ہے چہ جائیکہ ایک گناہ کے بدلے میں دولاکھ کے قریب جون بھگتنی پڑے اور پھر اس گناہ سے فراغت ہو کر دوسرے گناہ کی سزا نئے سرے سے شروع ہوا اور ایک طرف بندہ سزائیں پاتا جائے اور ایک طرف نئے گناہ جو اس کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہر دم اور ہر لحظہ اس سے صادر ہو رہے ہیں انبار کے انبار جمع ہوتے جائیں۔ پس جبکہ حقیقت گر حقیقت گناہ یہ ہے اور اس سے مخلصی پانا عند العقل محال ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اگر مکتی پانا اسی بات پر موقوف ہے کہ کسی قسم کا گناہ باقی نہ رہے اور کسی نوع سے خطا صادر نہ ہو سکے تو آریوں کے مکتی پانے کے کوئی لچھن نظر نہ من نظر نہیں آتے ۔ اور فرض کے طور پر اگر مان بھی لیں کہ کوئی آریہ ان سب شرائط کو پورا کر کے کسی زمانہ