سُرمہ چشم آریہ — Page 154
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۲ سرمه چشم آرید روحوں میں قوت رکھی گئی ہے تو کیا پر میشر اپنے بندوں کو ابدی سرور نہیں دے سکتا۔ بعض صاحب اس جگہ پر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ بندوں کے اعمال محدود ہیں اس لئے جزا بھی اس کی محدود ہی ملتی ہے میں کہتا ہوں کہ یہ خیال غلط ہے کیونکہ عمل اعظم بندہ کا یہی ہے کہ وہ وفاداری سے ایمان لاتا ہے اور بے انتہا وفاداری کی نیت سے تکالیف مالی و جانی اٹھانے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا ہے تو اس صورت میں عمل اس کا محدود نہ ہوا بلکہ غیر محدود ہوا اگر پر میشر اس کو زندہ چھوڑتا تو وہ کبھی بے وفائی نہ کرتا یہ نعوذ باللہ پرمیشر کا قصور ہوا کہ اس نے اس کو مہلت نہ دی ماسوا اس کے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے موجب نجات و کتی کا ایک ایسا امر ہے کہ وہ پر میشر کی صحبت میں رہ کر کم نہیں ہوسکتا بلکہ ترقی کرنا چاہئے کیونکہ کوئی عظمند ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ پر میشر کی صحبت سے گیان اور محبت میں کچھ فرق آ جاتا ہے اور جس طرح ممکن نہیں کہ باوجود چراغ کے ہونے کے اندھیرا ہو جائے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ باوجود علل موجبہ مکتی کے پھر کوئی شخص مکتی خانہ سے باہر نکالا جائے۔ پر میشر بمنزلہ خریدار کے نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ جس قدر اس نے کوئی چیز لی اسی قدر اس نے دام بھی دے دیئے بلکہ یہ معاملہ محبت و عشق کا ہے اور کوئی منصف مزاج معشوق اپنے وفادار عاشق سے ایسا بد معاملہ ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس کو ناحق خرابی میں ڈالے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ آیا پر میشر اس بات پر قادر ہے یا نہیں کہ اپنے بندہ کو ہمیشہ کے لئے مکتی دے دے۔ اگر قادر ہے اور بندہ وفادار بھی اس کا مستحق ہے اور علل لازمہ موجہہ بھی دائمی مکتی کو چاہتے ہیں تو پھر کیوں پر میشر ایسی سختی کرتا ہے کہ اوّل ایک بندہ کو ایک ایسا مقرب بنا کر کہ وہ اوتار ہو گیا یا اس پر وید نازل ہو گئے پھر نا حق اس کی عزت بگاڑ دیتا ہے اور رفتہ رفتہ مختلف جونوں میں ڈال کر اس کی کیڑوں مکوڑوں تک نوبت پہنچاتا ہے بعض صاحب یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ یہ کام پر میشر نے ایک مصلحت سے اختیار کر رکھا ہے اور وہ مصلحت یہ ہے کہ چونکہ پر میشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ کل ارواح معدود اور محدود ہیں تو اس صورت میں اگر