سُرمہ چشم آریہ — Page 152
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۰ سرمه چشم آرید ایسا اعتقاد خود خدائے تعالیٰ کو اس کی خدائی سے جواب دے رہا ہے کیونکہ جولوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر ارواح میں عجائب وغرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑنے جاڑنے سے پیدا نہیں ہو سکتے مثلاً روحوں میں ایک قوت کشفی ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات دریافت کر سکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کر سکتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں پائی جاتی ہے جس سے وہ خدائے تعالی کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خود بخود بغیر ایجاد کسی موجد کی مان لیا جائے تو پر میٹر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھا وہ تو خود بخود ہے اور جو ادنیٰ اور ناقص کام تھا وہ پر میشر کے ہاتھ سے ہوا ہے اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خود بخود عجائب حکمتیں پائی جاتی ہیں وہ پر میشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں ایسا کہ پر میشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی پر بڑا صدمہ پہنچے گا یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور اس کے وجود پر کوئی عقلی دلیل قائم نہ ہو سکے گی اور نیز وہ مبدء کل فیوض کا نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کا صرف ایک ناقص کام ہوگا اور جو اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ہیں ان کی نسبت یہی کہنا پڑے گا کہ وہ سب خود بخود ہیں لیکن ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر فی الحقیقت ایسا ہی ہے تو اس سے اگر فرضی طور پر پر میشر کا وجود مان بھی لیا جائے تب بھی وہ نہایت ضعیف اور نکما سا وجود ہوگا جس کا عدم وجود مساوی ہوگا یاں تک کہ اگر اس کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو روحوں کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا اور وہ اس لائق ہر گز نہیں ہوگا کہ کوئی روح اس کی بندگی کرنے کے لئے مجبور کی جائے کیونکہ ہر یک روح اس کو جواب دے سکتی ہے کہ جس حالت میں تم نے مجھے پیدا ہی نہیں کیا اور نہ میری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تم نے بنایا تو پھر آپ کسی استحقاق سے مجھ سے اپنی پرستش چاہتے ہیں اور نیز جبکہ پر میشر روحوں کا خالق ہی نہیں تو ان پر محیط بھی نہیں ہو سکتا۔ اور جب احاطہ نہ ہوسکا تو پر میشر اور روحوں