سُرمہ چشم آریہ — Page 151
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۹ مباحثه ثانيه منعقده ۱۴/ مارچ ۱۸۸۶ء اعتراض از طرف مؤلف رساله لهذا بسم الله الرحمن الرحيم سرمه چشم آرید آریہ صاحبوں کا اعتقاد ہے کہ پر میشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی بلکہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مکتی یعنی نجات ہمیشہ کے لئے انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ یہ دونوں اعتقاد ایسے ہیں کہ ایک کے قائم ہونے سے تو خدائے تعالیٰ کی توحید بلکہ اس کی خدائی ہی دور ہوتی ہے اور دوسرا اعتقاد ایسا ہے کہ بندہ وفادار پر ناحق کی تختی ہوتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انا دی مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان ارواح یعنی جیو خود بخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام بھی خود بخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے کے لئے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک دہر یہ جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کر سکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے کل چیزوں کا وجود خود بخود بغیر ایجاد پر میشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ ان چیزوں کے باہم جوڑنے جاڑنے کے لئے پر میشر کی حاجت ہے؟ دوسری یہ قباحت کہ