سُرمہ چشم آریہ — Page 147
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۵ سرمه چشم آریہ پڑے تو آپ کی بار برداری کا کام چلے پھر اگر کوئی ایسا بڑا کام کرے جس کی سزا میں اس کو ۸۷ عورت کی جون میں ڈالا جائے تو آپ لوگوں کو جور و نصیب ہو ۔ اور اگر کوئی ایک شخص کسی شامت گناہ سے مرے تب وہی روح اس کی بیٹا یا بیٹی بن کر آپ کو صاحب اولا د بنائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ بموجب اصول آپ کے تمام سلسلہ خدائی کا گناہوں کے طفیل ہی چل رہا ہے۔ اور اگر گناہ ظہور میں نہ آتے تو پر میشر تو کچھ چیز ہی نہیں تھا اور اس کی قدرتیں اور حکمتیں سب بیچ اور بے حقیقت تھیں۔ پس آپ کو تو قانون قدرت کا نام ہی نہیں لینا چاہئے کیونکہ قانون قدرت کا تو یہ ضروری تقاضا ہے کہ تمام اجزائے عالم بحکم اس واضح قانون کے روز ازل سے با ہم انضباط یافتہ ہیں یہ نہیں کہ کسی اتفاقی شامت سے یہ ہزاروں قسم کی مخلوقات پیدا ہوگئی ہے اور اگر وہ بلا اتفاق نہ ہوتا تو پیدا ہونے سے رہ جاتے اور پرمیشر کو کیسا ہی ان چیزوں کے پیدا کرنے کے لئے ارادہ کرتا مگر کچھ بھی نہ ہو سکتا۔ غرض جب آپ کا ایمان نہیں اور پھر خود بخود اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا ہو کر اس قدر کیڑے (۸۷) بقيه حاشیه پیدا ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ سب جسم کیڑے ہی کیڑے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ ارواح کو اجسام سے ایک لازمی اور دائمی تعلق پڑا ہوا ہے اب جو شخص تناسخ یعنے اواگون کا قائل ہے ضرور اس کو کہنا پڑے گا کہ اجسام نباتی و معدنی و حیوانی و اجرام علوی کا ایک ایک ذرہ کسی وقت انسان کا روح تھا کیونکہ جیسا کہ تجربہ ثابت کر رہا ہے۔ ایک ایک ذرہ جسم سے ایک ایک روح تعلق رکھتا ہے اور اجرام علومی میں روحوں کا ہونا شائد نا واقفوں کی نظر میں تعجب کا محل ہوگا لیکن حال کے فلسفیوں کی تحقیقاتوں نے کھول دیا ہے کہ کر شمس و قمر وغیرہ جانداروں کی آبادی سے خالی نہیں چنانچہ پنڈت دیا نند اور اس کے پیرو بھی اس بات کے قائل ہیں سو یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جس کرہ میں کوئی جاندار چیز ہو وہ اسی کرہ کے ماڈہ