سُرمہ چشم آریہ — Page 142
روحانی خزائن جلد ۲ ۸۲ ہے وبس۔ ۱۳۰ سرمه چشم آرید قوله ـ اگر خلاف قانون قدرت پر اس وجہ سے یقین کیا جائے کہ پر میشر سرب شکتی مان ہے تو پھر دنیا میں ہم کسی بات کو بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتے اور فریبی اور دغا باز لوگ روز بروز بہرکا سکتے ہیں۔ اقول اے صاحب میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا ہے کہ بے ثبوت اور تحقیق ہر یک بات کو مان لیا کرو۔ میں تو آپ کو کھلا کھلا ثبوت دے رہا ہوں اور خود میرا یہی اصول ہے کہ بے تحقیق کسی تاریخی واقعہ کو نہیں ماننا چاہیے لیکن میں ساتھ اس کے آپ کو یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر حقیقی دانائی سے کچھ بہرہ حاصل کرنے کا شوق ہے تو چند ناکارہ اور محدود تجارب کا نام قانون قدرت مت رکھو اور کنوئیں کے مینڈک کی طرح دنیا میں اسی قدر پانی مت سمجھو جو آپ کی نظر کے سامنے ہے۔ ایک تو آپ کے مذہب میں پہلے ہی سے یہ خرابی ہے کہ آپ لوگ اپنے تئیں واجب الوجود اور قدیم ہونے میں پرمیشر کے بھائی بند خیال کر رہے ہیں پھر اگر یہ دوسرا اعتقاد فاسد بھی اس کے ساتھ مل گیا کہ پر میشر کی طاقتیں اور قدرتیں بھی آپ کے معلومات سے زیادہ نہیں تو اس صورت میں آپ صرف بھائی بند نہ رہے بلکہ پر میشر کے بزرگ بھی ٹھہر گئے کیونکہ بزرگوں اور باپوں کو یہ کہنا بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نسبت یہ دعویٰ کریں کہ ان کے معلومات ہمارے معلومات سے زیادہ نہیں۔ قوله باقی سوالات جو مرزا صاحب نے اس غرض سے کئے ہیں کہ پہلے انسان اپنے گھر کو سوچ لے اگر اپنے میں نقص ہو تو دوسرے سے سوال نہ کرے تمام جہان کے نزدیک یہ مسئلہ غلط ہے۔ اقول ماسٹر صاحب آپ تمام جہان کو کیوں ناحق بدنام کرتے ہیں اپنے خیالات عجیبہ سے غرض رکھیں۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ بحث مباحثہ اظہار حق کی غرض سے