سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 134

۱۲۲ روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۷۴ و بغض و حسد شق القمر کی گواہی دینے سے زبان بند رکھتیں کیونکہ منکر اور مخالف کا دل اپنے کفر اور مخالفت کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ وہ مخالف مذہب کی تائید میں کتابیں لکھے یا اس کے معجزات کی گواہی دیوے۔ ابھی تازہ واقعہ ہے کہ لاله شرمیت و ملا وامل آریہ ساکنان قادیان و چند دیگر آپ کے آریہ بھائیوں نے قریب ے کے الہامی پیشگوئیاں اس عاجز کی بچشم خود پوری ہوتی دیکھیں جن میں پنڈت دیانند کی وفات کی خبر بھی تھی ۔ چنانچہ اب تک چند تحریری اقرار بعضوں کے ہمارے پاس موجود پڑے ہیں لیکن آخر قوم کے طعن ملامت سے اور نیز ان کی اس دھمکی سے کہ ان باتوں کی شہادت سے اسلام کو تائید پہنچے گی اور وہ امر ثابت ہوگا کہ جس میں پھروید کی بھی خیر نہیں ڈر کر مونہہ بند کر لیا اور ناراستی سے پیار کر کے راستی کی شہادت سے کنارہ کش ہو گئے سو مخالف ہونے کی حالت میں اگر کوئی ادائے شہادت سے خاموش رہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر مخالف کی طرف سے ایک دعویٰ کا جھوٹا ہونا کھل جائے تو پھر جھوٹ کی اشاعت کے لئے قلم نہ اٹھائیں اور دروغگو کو اس کے گھر تک نہ پہنچائیں سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت اور اپنے افعال کی تاثیر سے گھومتے ہوئے پانی یا کسی اناج یا ہوا میں ملتی ہے پھر جب وہ حاشیه پانی یاکسی بوٹے وغیرہ کے ساتھ مل جاتی ہے تو جیسے جس کے افعال کا اثر یعنی جتنا جس کو سکھ یا دکھ ہونا ضروری ہے خدا کے حکم کی موافق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کے شکم مادر میں داخل ہو جاتی ہے پھر جب حیوان یا انسان میں وہ غذا کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے اس کے جسم کے حصہ کی کشش سے اس کا جسم بنتا ہے اسی طریقہ سے جو پر میشر نے مقرر کر رکھا ہے روح نکلنے کے بعد آفتاب کی کرنوں کے ساتھ اوپر کو کھینچی جاتی ہے اور پھر چاند کے نور کے ساتھ (اوس کی طرح) زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے۔ پھر بموجب طریقہ مذکورہ بالاجسم اختیار کرتی ہے۔ یہ پنڈت صاحب کی عبارت ہے جو ہم نے ستیارتھ پرکاش سے نکال کر اس جگہ لکھی ہے اب ہم ماسٹر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیوں صاحب ابھی بیچ اور جھوٹ کی ترقی ہوئی یا نہیں۔ اس وقت ذرا آپ فرما ئیں تو سہی کہ آپ کے دل کا کیا حال ہے کیا وہ آپ کا قول بیچ نکلا کہ