سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 129

روحانی خزائن جلد ۲ 112 سرمه چشم آرید کے رو سے شق القمر پر اعتراض کرنا یہ بالکل غلط اور سراسر سمجھ کا پھیر ہے عقلمندی یہ ہے کہ قانون قدرت جو ہنوز انسانی دفتروں میں غیر مکمل ہے اس کو ہمیشہ عجائبات جدید الظہو ر کا تابع رکھنا چاہیے نہ یہ کہ جو عجائبات خواص عالم نئے نئے کھلتے جائیں ان کو با وجود ثبوت کے اس وجہ سے رد کر دیں کہ جو کچھ آج تک ہمیں معلوم ہے یہ اس سے زائد امر ہے۔ اس سے زیادہ تر کون سی فضول گوئی اور بے سمجھی ہوگی کہ اپنے چند روزہ اور محدود اور مشتبه تجربہ کو خدائے تعالیٰ کا مکمل قانون قدرت خیال کر بیٹھیں اور پھر جو آئندہ اسرار کھلتے جائیں ان کو اس بنا پر خلاف قانون قدرت سمجھ لیں کہ وہ ہمارے معلومات سابقہ سے زیادہ ہیں مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس رسالہ کے مقدمہ مذکورہ بالا کو پڑھ کر سمجھ لیا ہو گا کہ قانون قدرت کیا چیز ہے اور کس حالت میں کسی امر کو کہہ سکتے ہیں بقیه غلطی ہوئی مگر وہ سمجھنا کچھ اپنی لیاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے اعتراضات بارش کی (19) حاشیه طرح چاروں طرف سے برس کر متنبہ کرتے تھے اور اسی نقصان فہم کی وجہ سے پنڈت دیا نند کا اپنی تمام زندگی میں یہ طریق رہا ہے کہ اول ایک بات کا دعوی کرنا که یه مسئلہ وید کا ہے اور ہمارے ویدوں میں یوں ہی لکھا ہے اور پھر اس کو کسی رسالہ وغیرہ میں چھپوا دینا اور پھر جس وقت دانشمند لوگ اس پر اعتراض کر کے اس کا باطل ہونا کھول دیں اور لاجواب کر دیں تو پھر اس مسئلہ سے گریز کر جانا اور یہ ذر پیش کر دینا کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہمارا قصور نہیں ہے بلکہ سہو کا تب ہے چنانچہ پہلے انہوں نے اپنے ستیارتھ پرکاش میں جو دید بھاش کے مشتہر کرنے سے پہلے لکھی گئی ہے صفحہ ۴۲ میں لکھا تھا کہ پتھروں میں سے جو کوئی جیتا ہو اس کا ترپن نہ کرے اور جتنے مر گئے ہوں ان کا تو ضرور کرے اور اس پر چند فوائد اور دلائل بھی بیان کئے تھے لیکن پھر مدت کے بعد انہوں نے اشتہار دیا کہ یہ سہو کا تب ہے۔