سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 125

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۳ سرمه چشم آریہ بلکہ عورت اور مرد دونوں کی منی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے اخلاق روحانی بھی صرف (۶۵) ماں سے مشابہت نہیں رکھتے بلکہ ماں اور باپ دونوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو پھر یہ اعتقاد کس قدر نا معقول اور خلاف عقل ہے کہ گویا ایک عورت کی غذا میں ہی وہ روح مخلوط ہوکر کھائی جاتی ہے اور مرد اس سے محروم رہ جاتا ہے ۔ پھر سوچنا چاہیے کہ کیا روح کوئی جسم کی قسم ہے کہ جسم سے مخلوط ہو جاتی ہے دیکھو کس قدر یہ اصول بعید از عقل ہے۔ ماسوا اس کے زمین کے نیچے سے ہزاروں جانور زندہ نکلتے ہیں اور بہت سی چیزوں میں سینکڑوں برسوں کے بعد کیڑے پڑ جاتے ہیں ان چیزوں میں کہاں سے اور کس راہ سے روح آجاتی ہے۔ غرض اگر آپ یہ دعویٰ نہ کرتے کہ جو امر بظاہر برتر از عقل معلوم ہو وہ خدائے تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ آپ پر بقیه کے بحث کے متعلق ایک فضول جھگڑا شروع کر دیا اور چند سطر میں مندرجہ ذیل لکھ کر (۲۵) حاشیه اور ان پر اپنے دستخط کر کر جلسہ عام میں ایک بڑے جوش سے کھڑے ہو کر سنائیں اور وہ یہ ہیں ۔ آج پہلے اس کے کہ میں کوئی نیا سوال پیش کروں مرزا صاحب کی پہلے روز کی تقریر میں سے وہ حصہ جو انہوں نے فرمایا ہے کہ ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے کہ روحیں اوس وغیرہ پر پھیلتی ہیں اور عورتیں کھاتی ہیں تو آدمی پیدا ہوتے ہیں پیش کرتا ہوں یہ ستیارتھ پر کاش میں کسی جگہ نہیں اگر ہے تو ستیارتھ پر کاش میں دیتا ہوں اس میں سے نکال کر دکھلاویں تا کہ بیچ اور جھوٹ کی برقی لوگ کر لیں۔ ۱۴/ مارچ ۱۸۸۶ء ۔ مرلیدھر ڈرائنگ ماسٹر ۔ اس کے جواب میں اول تو میں نے یہ کہا کہ پہلے روز کی تقریر اسی روز کے ساتھ ختم ہوئی۔ آپ پر لازم تھا کہ اسی روز جھگڑا شروع کرتے اب یہ کیونکر اس جلسہ بحث میں