سُرمہ چشم آریہ — Page 112
روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۵۲ کی راہ سے سن سکتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ ہنوز تجر بہ شہادت نہیں دیتا لیکن ممکن ہے کہ کوئی ایسی مشارکت کانوں اور آنکھوں کی مخفی ہو جو کسی ہاتھ کے عمل سے یا کسی سماوی موجب سے ظہور پذیر ہو کر اس خاصیت کے ظہور کا موجب ہو جائے کیونکہ ابھی علم استدراک خواص مختتم نہیں ۔ ڈاکٹر برفی آرنے اپنے سفر نامہ کشمیر میں پیر پنجال کی چڑھائی کی تقریب بیان پر بطور ایک عجیب حکایت کے لکھا ہے جو تر جمہ کتاب مذکور کے صفحہ ۸۰ میں درج ہے کہ ایک جگہ پتھروں کے ہلانے جلانے سے ہم کو ایک بڑا سیاہ بچھو نظر پڑا جس کو ایک نوجوان مغل نے جو میری جان پہچان والوں میں سے تھا اٹھا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا اور پھر میرے نوکر کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا مگر اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نہ کا ٹا۔ اس نوجوان سوار نے اس کا باعث یہ بیان کیا کہ میں نے اس پر قرآن کی ایک آیت پڑھ کر پھونک دی ہے اور اسی عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑ لیتا ہوں ۔ اور صاحب کتاب فتوحات و فصوص جو ایک بڑا بھارا نامی فاضل اور علوم فلسفہ وتصوف میں بڑا ماہر ہے وہ اپنی کتاب فتوحات میں لکھتا ہے کہ ہمارے مکان پر ایک فلسفی اور کسی دوسرے کی خاصیت احراق آگ میں کچھ بحث ہو کر اس دوسرے شخص نے یہ عجیب بات دکھلائی کہ فلسفی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کوئلوں کی آگ میں جو ہمارے سامنے مجمر میں پڑی ہوئی تھی ڈال دیا اور کچھ عرصہ اپنا اور فلسفی کا ہاتھ آگ پر رہنے دیا۔ مگر آگ نے ان دونوں ہاتھوں میں سے کسی پر ایک ذرا بھی اثر نہ کیا۔ اور راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اس کی نیش زنی سے بکلی محفوظ رہتا تھا۔ اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جل شانہ معلوم ہوتے ہیں۔ غرض یہ عجائب خانہ دنیا کا بے شمار عجائبات سے بھرا ہوا ہے جو دانا اور شریف حکیم گزرے ہیں انہوں نے اپنے چند معد و معلومات پر ہرگز نا زنہیں کیا اور وہ اس بات کو بہت بے شرمی اور گستاخی سمجھتے رہے ہیں کہ اپنے محدود تجربہ کا نام الشعراء : ١٣١