سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 87

روحانی خزائن جلد ۲ ۷۵ سرمه چشم آرید کے طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء ونعماء سے آشنا کرے اور لد فی طور پر عقل اور علم (۲۷) عطا فرمادے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کر کے عجائبات الوہیت کا سیر کراوے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے بقیه کلام مجز نظام میں اندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادر مطلق (۲۷) حاشیہ کے یہ کسی کا کام نہیں۔ تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امور غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصہ ہے جس سے دلوں کو تسلی و تشفی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہوری طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ پھر علاوہ اس کے قرآن شریف نے تائید دین میں اور اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علم نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت وفصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کر دینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مدنظر رکھا ہے غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمت دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہر یک درجہ کا ذہن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگر چہ دلی جوش اس عاجز کا اس بات کی طرف دامن دل کھینچ رہا ہے کہ ان سب علوم میں سے دو دو تین تین مسائل علمی جو قرآن شریف میں درج ہیں نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جائیں اور کچھ براہین عقلیہ بھی جو اس پاک کلام میں اثبات اصول دین کے لئے اندراج پائے ہیں تحریر ہوں لیکن چونکہ یہ سب بیانات طوالت طلب ہیں اور رسالہ طذا بوجہ عقیل انجم ہونے کے ان کی برداشت نہیں کر سکتا اور کتاب براهین احمد یہ خودان سب باتوں کی متکفل ہے اس لئے خوف اطناب سے ترک کر دیا گیا۔ طالبین حق انشاء اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں ان