سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 512

سرّالخلافة — Page 400

روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۰ سر الخلافة کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کو مل جائے گا اور ہزار لعنت کے داغ سے بھی بچ جائیں گے ۔ ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے۔ مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی بات کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی۔ اس کا کیا سبب تھا؟ بس یہی کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے سونا چار انہوں نے اپنی رسوائی کو قبول کر لیا اور اس طرف رخ نہ کیا یہ اسی الہام کی تصدیق ہے کہ انہی مهين من اراد اهانتک شیخ صاحب نے منبروں پر چڑھ چڑھ کر صد ہا آدمیوں میں صدہا موقعوں میں بار بار اس عاجز کی نسبت بیان کیا کہ یہ شخص زبان عربی سے محض بے خبر اور علوم دین سے محض نا آشنا ہے ایک جاہل آدمی ہے اور کذاب اور دجال ہے اور اسی پر بس نہ کیا بلکہ صد با خط اسی مضمون کے اپنے دوستوں کو لکھے اور جابجا یہی مضمون شائع کیا۔ اور اپنے جاہل دوستوں کے دلوں میں بٹھا دیا کہ یہی سچ ہے۔ سوخد اتعالیٰ نے چاہا کہ اس متکبر کا غرور توڑے اور اس گردن کش کی گردن کو مروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ سو اس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم اور تفہیم سے یہ کتا بیں تالیف ہوئیں اور ہم نے کرامات الصادقین اور نور الحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ء مقرر کی تھی جو گزرگئی اور اب دونوں کتابوں کے بعد یہ کتاب سر الخلافة تالیف ہوئی ہے جو بہت مختصر ہے اور نظم اس کی کم ہے اور ایک عربی دان شخص ایسا رسالہ سات دن میں بہت آسانی سے بناسکتا ہے اور چھپنے کے لئے دس دن کافی ہیں لیکن ہم شیخ صاحب کی حالت اور اس کے دوستوں کی کم مائیگی پر بہت ہی رحم کر کے دس دن اور زیادہ کر دیتے ہیں اور یہ ستائیس دن ہوئے سو ہم فی دن ایک روپیہ کے حساب سے ستائیس روپیہ کے انعام پر یہ کتاب شائع کرتے ہیں اور شیخ صاحب اور ان کے اسمی مولویوں کی خدمت میں التماس ہے کہ اگر وہ اپنی سُوء قسمت سے ہزار روپیہ کا انعام لینے سے محروم رہے اور پھر پانچ ہزار روپیہ کا انعام پیش کیا گیا تو وہ وقت بھی اُن کی کم مائیگی