سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 395

۔میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمدؐ کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمدؐ تجھ پر میری جان فدا ہو۔اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمدؐ کی شان کے شایاں نہیں۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدؐ کے میدان میں کوئی بھی) مقابلہ پر(نہیں آتا۔اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا اور محمدؐ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمدؐ کے آل اور انصار میں ڈھونڈ۔خبردار ہو جا! اے وہ شخص جو محمدؐ کی شان نیز محمدؐ کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔اگرچہ کرامت اب مفقود ہے مگر تو آ اور اسے محمدؐ کے غلاموں میں دیکھ لے صفحہ ۱۲۴۔دلبر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔وہ سورج میں بھی چمکتا ہے اور چاند میں بھی۔لیکن وہ حسین چہرہ غافلوں سے پوشیدہ ہے سچا عاشق چاہیے تا کہ اُس کی خاطر نقاب اٹھائی جائے۔اُس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا اس کے لئے کوئی راہ سوائے انکساری درد اور بے قراری کے نہیں ہے۔اُس محبوب ازلی کا راستہ بہت خطرناک ہے اگر تجھے جان کی سلامتی چاہیے تو خود روی کو ترک کر دے۔نا اہل لوگوں کی عقل اُس کے کلام کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی جو خودی کا تارک ہو اسی کو وہ صحیح راستہ ملتا ہے۔قرآن کو سمجھنے کا مسئلہ اہل دنیا سے حل نہیں ہو سکتا، اس شراب کا مزا وہی جانتا ہے جو اس شراب کو پیتا ہے۔اے وہ شخص جسے باطنی انوار کی کچھ خبر نہیں، تو جو کچھ بھی ہمارے حق میں کہے ناراضگی کا موجب نہیں۔ہم نے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر یہ باتیں کہی ہیں تا کہ وہ خراب زخم اس مرہم سے اچھا ہو جائے۔انکارِ دعا کے مرض کا علاج دعا ہی سے کر جیسے خمار کے وقت شراب کا علاج شراب سے ہی کیا جاتا ہے۔اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اگر دعاؤں میں اثر ہے تو دکھاؤ کہاں ہے پس میری طرف دوڑ تا کہ میں تجھے سورج کی طرح دعا کا اثر دکھاؤں۔خبردار خدا کی قدرتوں کے بھیدوں کا انکار نہ کر بات ختم کر اور ہم سے دعائے مستجاب دیکھ لے