سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 394
صفحہ ۱۱۴۔کسی کو پکڑو تو مضبوطی سے پکڑو صفحہ ۱۲۳۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمدؐ کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔میں اُن نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمدؐ کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں۔دونوں جہان میں مَیں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمدؐ کی سی شان وشوکت رکھتا ہو۔خدا اُس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمدؐ سے کینہ رکھتا ہو۔خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمدؐ کے دشمنوں میں سے ہو۔اگر تو نفس کی بد مستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمدؐ کے مستانوں میں سے ہو جا۔اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمدؐ کا مدح خواں بن جا۔اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمدؐ ہی خود محمد کی دلیل ہے۔میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمدؐ پر قربان رہتا ہے۔رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمدؐ کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمدؐ کے ایمان کا رنگ ہے۔دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمدؐ کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمدؐ کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمدؐ کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمدؐ کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔مجھے تو اسی آنکھ کی نظرِ مہر درکار ہے۔میں محمدؐ کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمدؐ کے دامن سے باندھ دیا ہے