سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 390
صفحہ ۱۰۰۔باتیں بنانے سے یہ کام نہیں چلتا خدا کو پانے کے لئے صدق درکار ہے۔عالموں نے اپنے علم کو بت بنایا ہوا ہے اور وہ صبح شام بت پرستی میں مشغول ہیں۔اگر خشک علم پر ہی دین کا مدار ہوتا تو ہر نالایق انسان دین کا محرم راز ہوتا۔ہمارا یار تو باطن پر نظر رکھتا ہے تو اپنی کسی اور خوبی پر نازاں نہ ہو۔وہ بارگاہ نہایت اونچی اور عالی شان ہے اُس کے وصل کے لئے بہت آہ وزاری کرنی چاہیے۔زندگی مرنے اور انکسار اور گریہ وزاری میں ہے جو گر پڑا وہی آخر (زندہ ہو کر) اٹھے گا۔جب تک درد کا معاملہ جان لینے تک نہ پہنچے تب تک اُس کی آہ وفریاد درِ جاناں تک نہیں پہنچتی۔جو خودی کو ترک کرتا ہے وہ خدا کو پا لیتا ہے وصل کیا چیز ہے اپنے نفس سے الگ ہو جانا۔لیکن نفس کو مارنا آسان کام نہیں۔مرنا اور خودی کا چھوڑنا برابر ہے۔جب تک ہماری جان پر وہ ہوا نہ چلے جو ہماری ہستی کے ذرہ تک کو اڑا لے جائے۔تب تک اُس مصنوعی گرد وغبار میں وہ حسین چہرہ کس طرح دیکھا جا سکتا ہے۔جب تک ہم اپنے خدا پر قربان نہ ہو جائیں اور جب تک اپنے دوست کے اندر محو نہ ہو جائیں۔جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہو جائیں اور جب تک سینہ اُس کی محبت سے بھر نہ جائے۔جب تک ہم پر لاکھوں موتیں واردنہ ہوں تب تک ہمیں اُس محبوب کی طرف سے نئی زندگی کب مل سکتی ہے۔جب تک اپنے سارے بال وپر نہ جھاڑ ڈالے تب تک اس راہ کے پرندے کے لئے اڑنا مشکل ہے۔بدقسمت ہے وہ شخص جس کا وقت برباد ہو گیایار ناراض ہو گیا اور دشمنوں کا دل خوش ہوا۔مجھے داناؤں کی عقلمندی سے انکار نہیں ہے مگر یہ یار کے وصل کا راستہ نہیں۔جب تک عشق اور سودا اور جنون نہ ہو تب تک وہ بے مثال محبوب اپنا جلوہ نہیں دکھاتا۔چونکہ وہ عزت والا محبوب پوشیدہ ہے تو ہر شخص یقیناکوئی نہ کوئی راستہ (اس سے ملنے کے لیے) اختیار کرتا ہے۔لیکن عقل والوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے تو انہوں نے بہ تکلّف خدا کے چہرہ کو اور بھی چھپا دیا ہے۔پہلے پردوں پر اور پردے ڈال دیئے مقصدنزدیک تھا مگر اُسے اور دور کر دیا