سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 389

۔میں نے اپنے پاس سے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ خدا کے حکم کی پیروی کی ہے۔یہ خدا کا کام ہے نہ کہ انسان کا مکر اس کا دشمن اُس عادل خدا کا دشمن ہے۔وہ خدا جس نے اس عاجز کو منتخب کیا ہے اس کی رحمت ہماری گلی میں برسی ہے۔جب میں مر گیا تو مرنے کے بعد میرا محبوب آگیا۔جب میں فنا ہو گیا تو اُس کا چہرہ مجھ پر ظاہر ہو گیا۔دلبر کے عشق کی رَو زوروں پر تھی۔وہ غالب آگئی اور ہمارا سب سامان بہا کر لے گئی۔میرے پاس اعمال کا ذخیرہ نہیں بلکہ عشق جوش میں آیا اور اس سے یہ سب کام ہو گئے۔میرے لئے نیستی ہی خدا کا طور بن گئی جب خودی جاتی رہی تو خدا کا نور آگیا۔میں نے اسی کی طرف اپنا رخ پھیر لیا کیونکہ دیکھنے کے لایق وہی چہرہ ہے اور ہر مبارک دل اُسی کی طرف مائل ہے۔دونو جہان میں اُس کی طرح کا کوئی چہرہ کہاں ہے؟ اور اُس کے کوچہ کے سوا اور کوئی کوچہ کہاں ہے؟۔وہ لوگ جو اُس کے کوچہ سے غافل ہیں وہ گلیوں کے کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔مخلوقات اور دنیا سب شورو شر میں مبتلا ہے مگر اُس کے عاشق اور ہی عالم میں ہیں۔وہ عالم جس شخص سے پوشیدہ رہا۔اُس اندھے اور بدبخت نے دنیا میں آکر دیکھا ہی کیا؟۔صادقوں پر خدا کا راستہ پانا آسان ہے جو خدا کو ڈھونڈتا ہے تو اُس کا دامن اُس کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔جو بھی صدق وصفا کے ساتھ اس کا وصل چاہتا ہے اُس کے لئے آسمانوں کا خدا وصل کا راستہ کھول دیتا ہے۔یار کی نظر سچوں کو پہچان لیتی ہے مکر اور چالاکی یہاں کام نہیں دیتی۔دوست کے وصل کے لئے صدق درکار ہے جو بغیر صدق کے اسے ڈھونڈتا ہے وہ بیوقوف ہے۔خدا کے حضور صدق کو اختیار کرنے والا آخر کار اپنی وفا کی برکت سے اُسے پالیتا ہے۔سینکڑوں بند دروازے صدق کی وجہ سے کھل جاتے ہیں کھویا ہوا دوست صدق کی وجہ سے واپس آجاتا ہے۔سچوں کی یہی علامت ہے کہ محبوب کی خاطر ان کی جان ہتھیلی پر ہوتی ہے۔دلبر کی صورت پر ان کی ٹکٹکی لگی ہوتی ہے اور لوگوں کی تعریف اور مذمت سے وہ بے خبر ہوتے ہیں۔عقبیٰ کا معاملہ اعمال سے وابستہ ہے وہ دل نجات پا گئے جو خدا کے لئے زخمی ہوئے