سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 385
۔وہ رسول جن کا نام محمدؐ ہے اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔اس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی۔وہی خیرالرسل اور خیرالانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اُس پر ہو گئی۔جو بھی پانی ہے وہ ہم اسی سے لے کر پیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اسی سے سیراب ہوا ہے۔جو وحی والہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے۔ہم ہر روشنی اور ہر کمال اُسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب ازلی کا وصل بغیر اُس کے ناممکن ہے۔اس کے ہر ارشاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی اُس کا فرمان ہے اُس پر ہمارا پورا ایمان ہے صفحہ ۹۶۔فرشتوں کے متعلق اور آخرت کے حالات کے متعلق جو کچھ اُس ربّ العباد کے پیغمبر نے فرمایا۔وہ سب خدائے واحد کی طرف سے ہے (اور) اس کا منکر لعنت کا مستحق ہے۔اس کے معجزے سب کے سب سچے اور درست ہیں ان کا منکر خدا کی لعنت کا مورد ہے۔پہلے سب نبیوں کے معجزے جن کا ذکر صاف اور واضح طور پر قرآن میں ہے۔اُن سب پر بدل وجان ہمارا ایمان ہے جو انکار کرتا ہے وہ بدبختوں میں سے ہے۔اُس نورانی کتاب سے ایک قدم بھی دور رہنا ہمارے نزدیک کفر وزیاں اور ہلاکت ہے۔لیکن ذلیل لوگوں کو قرآن کی حقیقت کی خبر نہیں ہرایک دل اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہے۔جب تک طالب حق پاک باطن نہیں ہوتا اور جب تک اس یارِ بے مثال کا عشق اس کے دل میں جوش نہیں مارتا۔تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے۔نور کے سمجھنے کے لئے بہت سا نورِ باطن ہونا چاہیے۔یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونے کی شرط ہے۔اگر ہر شخص قرآن کو (خود ہی)سمجھ سکتا تو خدا نے تطہر کی شرط کیوں زاید لگائی۔نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خودنور ہو گیا ہو اور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو