سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 384
۔دراصل حقیقی انسان کم ہوتے ہیں اگرچہ دیکھنے میں سب آدمی ہی نظر آتے ہیں۔اے وہ کہ میری محبت کا رُخ تیری طرف ہے مجھے تیرے کوچہ سے انس کی خوشبو آتی ہے۔ان لوگوں میں سے کسی نے بھی ہماری طرف رُخ نہ کیا اے نیک نصیب انسان یہ بات تیری قسمت میں ہی تھی۔یہ لوگ تو ہر وقت مجھے لعنت سے یاد کرتے ہیں اور ظلم وجفا سے مجھے دکھ دیتے رہتے ہیں صفحہ ۹۵۔یار کی نظر میں کوئی شخص صدیق قرار نہیں پاتا جب تک وہ غیروں کی نظر میں زندیق نہ ہو۔انہوں نے مجھے کافر دجّال اور لعنتی کہا اور ہر کمینہ میرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھ گیا۔ان بازیگروں کو دیکھ کہ کس طرح اچھلتے ہیں یہ حسد کے مارے اپنی جان سے ہی کھیلتے ہیں۔کسی مومن کو کافر ٹھہرانا سمجھ دار آدمی کے نزدیک بڑے خطرہ کی بات ہے۔کیونکہ جو تکفیر ناحق کی جاتی ہے وہ تکفیر کرنے والے کے سر پر ہی واپس پڑتی ہے۔وہ بے وقوف جو مخفی کفر میں غرق ہے وہ اور وں کے کفر پر ناحق بیہودہ غل مچاتا ہے۔اگر اُسے اپنے باطنی کفر کی خبر ہوتی تو اپنے آپ کو ہی بہت ُبرا سمجھتا۔جب سے لوگوں نے مجھے اپنی قوم سے کاٹ دیا ہے تب سے انہوں نے میرے کافر بنانے میں کتنی کتنی کوششیں کی ہیں۔ہر شخص کے روبرو افترا پردازیاں کیں اور خیانت کے ساتھ خوب باتیں بنائیں۔تا کہ کوئی تو اس افترا کی وجہ سے پھسل جائے اور بھولا آدمی مجھے کافر سمجھنے لگے۔انہوں نے ہمارے راستے میں فتنے کھڑے کیے اور عیسائیوں کے ساتھ ساز باز کی۔جہل وعداوت کی وجہ سے مجھے کافر کہا۔کاش دنیا میں اتنا اندھا کوئی نہ ہو۔بخل ونادانی نے تعصب کو بڑھایا اور کینہ بھڑک کر ان کی دونوں آنکھیں نکال لے گیا۔ہم خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔محمد مصطفی ہمارے امام اور پیشوا ہیں۔ہم ماں کے پیٹ سے اسی دین میں پیدا ہوئے اور اسی دین پر دنیا سے گزر جائیں گے۔خدا کی وہ کتاب جس کا نام قرآن ہے ہماری شرابِ معرفت اُسی جام سے ہے