سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 383

وہ خبریں لکھتے ہیں کہ جو عظمت رکھتی ہیں۔اس مضمون کی تعریف اس رنگ میں کی ہے کہ حد اعجاز تک پہنچا دیا ہے۔چنانچہ سول ملٹری لکھتا ہے کہ جب یہ مضمون پڑھا گیا توتمام لوگوں پر محویت کا عالم طاری ہو گیا اور بالاتفاق لکھا کہ تمام مضامین پر یہی مضمون غالب رہا۔بلکہ لکھا کہ دیگر مضامین اس کے مقابل پر کچھ چیز نہ تھے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس واقعہ سے پہلے ہی خدا نے اپنے کلام اور الہام سے مجھ کو اطلاع بخشی۔اور میں نے بھی پیش از وقت اس اعلامِ الٰہی کو بذریعہ اشتہار مشتہر کر دیا تھا۔پس اس واقعہ کی عظمت نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہو گئی۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔آنمکرم نے علماء کے شکوہ و شکایت کے بارہ میں جو تحریر فرمایا ہے اس بارہ میں کیا کہیں اور کیالکھیں؟ میرا اور ان کا مقدمہ آسماں پر ہے۔پس اگر میں کاذب ہوں اور حضرت باری عزّ اسمہٗ کے علم میں مفتری اور میرا دعویٰ کذب، خیانت اور دجل ہے اس صورت میں میرا خدا سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں اور جلدتر مجھ کو جڑ سے اکھاڑ دے گا اور میری جماعت کو منتشر کر دے گا کیونکہ وہ مفتری کو ہرگز امن کی حالت میں نہیں رہنے دیتالیکن اگر میں اُس سے اور اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے حکم سے آیا ہوں اور میں اپنے کاروبار میں کوئی خیانت نہیں رکھتا تو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایسے میری تائید کرے گا کہ جیسے قدیم سے صادقوں کی تائید اس کی سنت چلی آئی ہے۔اور میں ان لوگوں کی لعنت سے نہیں ڈرتا۔لعنت وہ ہے جو آسمان سے گرتی ہے اور جب آسمان سے لعنت نہیں ہے تو مخلوق کی لعنت ایک سہل امر ہے کہ کوئی راستباز اس سے محفوظ نہیں رہا لیکن آنمخدوم کے لئے حضرت عزت میں دعا کرتا ہوں کہ محض اپنی فطرت کی سعادت سے اس عاجز کے مخالفوں کو دور کرے۔پس اے عزیز خدا تیرے ساتھ ہو اور تمہارا انجام بخیر ہو۔جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرَ الْجَزَائِ اور تجھ پر دنیا اور آخرت میں احسان فرمائے اور جہاں بھی تم ہو تمہارے ساتھ ہو اور اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے محبوب بندوں میں داخل فرمائے۔آمین صفحہ ۹۴۔اے صدق وصفا میں اس زمانہ کے یگانہ انسان تیرے ساتھ وہ ذات ہو جس کا نام خدا ہے۔تجھ پر اُس یار قدیم کی رحمتوں کی بارش ہو اور تجھ میں اس محبوب ازلی کا نور چمکتا رہے۔اے نیک خصلت انسان تجھ سے میری جان راضی ہے اس قحط الرجال میں مَیں نے تجھ کو ہی ایک مرد پایا ہے