سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 382
نے مراجعت حج کے بعد وفات پائی۔انہوں نے اپنے اعزاء اور وابستگان کو بار بار یہی نصیحت فرمائی کہ اس عاجز کے ساتھ مریدی کا تعلق رکھے رہیں گے اور حج کے ارادہ کے وقت مجھے لکھا کہ مجھے بڑی حسرت ہے کہ میں نے آپ کے زمانہ سے بہت ہی کم وقت پایا اور عمر اِدھر اُدھر کے کاموں میں ضائع ہو گئی اور اولاداور تمام مرد اور عورتیں کہ جو ان کے اعزاء تھے نے ان کی وصیت پر عمل کیا اور خود اس عاجز کے سلسلہ بیعت سے منسلک ہو گئے۔چنانچہ لمبے عرصہ سے اس بزرگ کی اولادنے لدھیانہ سے ترک سکونت کر لی ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس قادیان میں رہ رہے ہیں۔اور ایک اور بزرگ صاحبِ عَلَم ہیں جنہوں نے میری نسبت خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی مجلس میں میرے بارہ میں شہادت دی اور میری طرف وہ مکتوب تحریر کیا جوضمیمہ انجام آتھم میں آنمکرم کی نظر سے گزرا ہو گا۔لیکن ابھی اس عاجز کی جماعت اس تعداد کو نہیں پہنچی کہ جو میرے خدا نے مجھ پر منکشف فرمائی ہے۔میرا خیال ہے کہ اب تک میری جماعت آٹھ ہزارسے دو تین سو کم یا زیادہ ہو گی۔اے مخدوم و مکرم یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اور اس قادر کے ہاتھوں اس کی بناء ہے کہ جو ہمیشہ کار ہائے عجائب دکھاتا ہے۔وہ اپنے کاروبار کے بارہ میں پوچھا نہیں جاتا کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔وہ مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے خوف سے آسمان و زمین کانپتے ہیں اور اس کی ہیبت سے ملائکہ لرزاں ہوتے ہیں اور اس نے اپنے الہام میں میرا نام آدم رکھا اور فرمایا۔اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ میں بھی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا کے اعتراض کا مورد بنوں گا۔پس جو کوئی مجھ کو قبول کرتا ہے وہ فرشتہ ہے نہ انسان اور جو سرکشی کرتا ہے ابلیس ہے نہ آدمی۔یہ قول خدا کا فرمودہ ہے نہ میرا۔پس ان لوگوں کو مبارک ہو جو مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے دشمنی نہیں رکھتے اور جنہوں نے مجھے اختیار کیا ہے اور مجھے تکلیف نہیں دیتے۔یہ ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی برکات نازل ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔آنمخدوم نے جو نقل مضمون جلسہ مذاہب طلب فرمایا تھا اس میں توقف کا سبب یہ ہوا کہ میں منتظر تھا کہ مضمون میں سے ایک مطبوعہ حصہ مجھے پہنچتا تا آپ کی خدمت میں بھجواؤں۔چنانچہ آج اس کا ایک حصہ پہنچا کہ آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں۔اسی طرح آئندہ بھی جس جس طرح پہنچے گا انشاء اللہ خدمت میں روانہ کروں گا۔اس مضمون کی مقبولیت اس سے ظاہر ہے کہ سرکاری اخبارات کہ جو ہر خبر سے کوئی سروکار نہیں رکھتے اور صرف