سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 378

۔دونوں جہان میں مَیں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمدؐ کی سی شان وشوکت رکھتا ہو۔خدا اُس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمدؐ سے کینہ رکھتا ہو۔خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمدؐ کے دشمنوں میں سے ہو۔اگر تو نفس کی بد مستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمدؐ کے مستانوں میں سے ہو جا۔اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمدؐ کا مدح خواں بن جا۔اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمدؐ ہی خود محمد کی دلیل ہے۔میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمدؐ پر قربان رہتا ہے۔رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمدؐ کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمدؐ کے ایمان کا رنگ ہے۔دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمدؐ کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمدؐ کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمدؐ کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمدؐ کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔مجھے تو اسی آنکھ کی نظرِ مہر درکار ہے۔میں محمدؐ کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمدؐ کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمدؐ کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمدؐ تجھ پر میری جان فدا ہو۔اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمدؐ کی شان کے شایاں نہیں۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدؐ کے میدان میں کوئی بھی) مقابلہ پر(نہیں آتا۔اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا اور محمدؐ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمدؐ کے آل اور انصار میں ڈھونڈ