سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 371
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۹ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کھولا کہ وہ قرآن شریف کی ہدایتوں پر چل کر نجات پاسکتے ہیں۔ میں اس بات کا بھی (۲۳) اقرار کرتا ہوں کہ قرآن شریف میں خدا کی محبت انسانوں سے اس قسم کی بیان نہیں کی گئی کہ اس نے کوئی اپنا بیٹا بدکاروں کے گناہوں کے بدلہ میں سولی دلوا دیا اور ان کی لعنت اپنے پیارے بیٹے پر ڈال دی۔ خدا کے بیٹے پر لعنت نعوذ باللہ خود خدا پر لعنت ہے کیونکہ باپ اور بیٹا دو نہیں ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ لعنت اور خدائی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں پھر یہ بھی سوچو کہ خدا نے دنیا کے بدکاروں سے یہ کیسی محبت کی کہ نیک کو مارا اور برے سے پیار کیا۔ یہ ایسا خلق ہے جس کی کوئی راستباز پیروی نہیں کرسکتا۔ اور اس سوال کی تیسری جزیہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان انسان کے ساتھ محبت کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے اس جگہ بجائے محبت کے رحم اور ہمدردی کا لفظ لیا ہے کیونکہ محبت کا انتہا عبادت ہے اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے اور نوع انسان کے لئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔ اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔ میں یقین نہیں رکھتا کہ یسوع کے منہ سے ایسا مشر کا نہ لفظ نکلا ہو بلکہ میرا گمان ہے کہ پیچھے سے یہ مکروہ الفاظ انجیلوں میں ملا دیئے گئے ہیں اور پھر نا حق یسوع کو بدنام کیا گیا ۔ غرض خدا کی پاک کلام میں بنی نوع کے لئے رحم کا لفظ آیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ یعنی مومن وہ ہیں جو حق اور رحم کی وصیت کرتے ہیں ۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى یعنی خدا کا حکم یہ ہے کہ تم عام لوگوں کے ساتھ عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم احسان کرو اور جملا محبت کا لفظ جہاں کہیں با ہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے۔ اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔ منہ العصر : البلد : ۱۸ ۳ النحل: ۹۱