سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 366
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۴ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (۳۸) ایک گناہ کیا ہے تو کیا اس کو مارنا بہتر ہے یا عفو کرنا۔ اور ایک سائل جو ہم سے مثلاً ہزار روپیہ اس غرض سے مانگتا ہے کہ وہ اس روپیہ سے اپنے لڑکے کی دھوم دھام سے شادی کرے اور آتش بازی اور گانے والی عورتیں اور دوسرے باجوں کے ساتھ اپنے خاندان کے رسوم کے موافق اس رسم کو ادا کرے ۔ تو گو ہم ہزار روپیہ اس کو دے سکتے ہیں مگر ہمیں امر معروف اور نہی منکر کے قاعدہ کے لحاظ سے سوچ لینا چاہیے کہ ایسی سخاوت سے ہم کس شخص کی مدد کرتے ہیں۔ غرض اسی طرح قرآن نے ہمارے دین اور دنیا کی بہبودی کے لئے ہمارے ہر ایک کارخیر میں محل اور موقعہ کی قید لگادی ہے۔ اب میں میاں سراج الدین صاحب کے سوال دوم کا پورا جواب دے چکا ہوں اور میں لکھ چکا ہوں کہ اسلام نے یہودیوں کے ساتھ تو حید منوانے کیلئے لڑائیاں نہیں کیں بلکہ اسلام کے مخالف خود اپنی شرارتوں سے لڑائیوں کے محرک ہوئے۔ بعض نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے خود پہلے پہل تلوار اٹھائی۔ بعض نے ان کی مدد کی ۔ بعض نے اسلام کی تبلیغ روکنے کیلئے بے جا مزاحمت کی۔ سوان تمام موجبات کی وجہ سے مفسدین کی سرکوبی اور سزا اور شر کی مدافعت کیلئے خدا تعالیٰ نے ان ہی مفسدوں کے مقابل پر لڑائیوں کا حکم کیا۔ اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک اس وجہ سے مخالفوں سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیت حاصل نہیں ہوئی تھی یہ محض ظالمانہ اور مفسدانہ خیال ہے۔ اگر صورت حال یہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تیرہ برس تک ان ظلموں اور خونریزیوں سے باز رہتے جو مکہ میں ان سے ظہور پذیر ہوئے اور پھر آپ منصوبہ کر کے یہ تجویز نہ کرتے کہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا چاہیے اور یا وطن سے نکال دینا چاہیے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی بغیر حملہ مخالفین کے مدینہ کی طرف چلے جاتے تو ایسی بدظنیوں کی کوئی جگہ بھی ہوتی لیکن یہ