سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 364
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اس جگہ یہ اعتراض بھی دور کر دینے کے قابل ہے کہ جس حالت میں حقیقی اور کامل تعلیم یہی ہے جس میں محل اور موقعہ کی رعایت اور ہر ایک نکتہ معرفت کا استیفاء کے ساتھ بیان ہو تو کیا سبب ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس سے خالی رہیں اور قرآن نے ان دونوں باتوں کو کمال تک پہنچایا۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ توریت اور انجیل کا قصور نہیں ہے بلکہ قوموں کی استعداد کا قصور ہے۔ یہودی لوگ جن سے پہلے حضرت موسیٰ کو واسطہ پڑا وہ چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہے تھے اور ایک مدت دراز تک ظلم کے تختہ مشق رہ کر عدل اور انصاف کی حقیقت سے بے خبر ہو گئے تھے۔ یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ اگر با دشاہ وقت جو مؤدب اور آموزگار کے حکم میں ہوتا ہے عادل ہو تو رعایا کے دل پر عدل کا پر توہ پڑتا ہے اور طبعا وہ بھی خلق عدل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی ان میں پیدا ہو کر عادلانہ صفات اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔ لیکن اگر بادشاہ ظالم ہو تو رعایا بھی اس سے ظلم اور تعدی کا سبق سیکھتی ہے اور اکثر ان کی صفت عدل سے محروم ہوتی ہے۔ پس یہی حال بنی اسرائیل کا ہوا کہ وہ لوگ ایک مدت دراز تک فرعون جیسے ظالم بادشاہ کی رعایا رہ کر اور طرح طرح کے ظلم اٹھا کر عدل کی کیفیت سے بالکل غافل ہو گئے ۔ سو حضرت موسیٰ کا فرض یہ تھا کہ ان کو سب سے پہلے عدل کا سبق دیں۔ اس لئے توریت میں عدل کی حفاظت کیلئے بڑے شدومد سے آیات پائی جاتی ہیں۔ ہاں رحم کی آیات کا بھی توریت میں پتہ ملتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھو تو ایسی آیتیں بھی عدل کے حدود کی نگہداشت کیلئے اور نا جائز جذبات اور بے جا کینوں کے روکنے کیلئے بیان فرمائی گئی ہیں اور ہر جگہ اصل مدعا قوانین عدل اور انصاف کی نگہداشت ہے لیکن انجیل پڑھنے سے یہ مدعا معلوم نہیں ہوتا بلکہ انجیل میں عفو اور ترک انتقام پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اور جب ہم انجیل کو تدبر اور عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اس کے سلسلہ عبارت سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ اس کتاب کا نے والا اپنے مخاطبین کی نسبت یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ لوگ طریق مروت اور صبر اور ترک