سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 362
الله روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب سو توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی ۔ اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورۃ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صد ہا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گوساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لا حاصل ہو گی ۔ اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ۔ ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔ بھلا اگر وہ اپنی تو ریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسور و پیہ نقد ان کو دینے کیلئے طیار ہیں ۔ اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں میں سے جو ستر کے قریب ہوں گی وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتب اور منتظم درر حکمت و جواہر معرفت و خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جو سورہ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں۔ اور اگر یہ روپیہ تھوڑا ہو تو جس قدر ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم ان کی درخواست پر بڑھا دیں گے اور ہم صفائی فیصلہ کے لئے پہلے سورہ فاتحہ کی ایک تفسیر طیار کر کے اور چھاپ کر پیش کریں گے اور اس میں وہ تمام حقائق و معارف و خواص کلام الوہیت به تفصیل بیان کریں گے جو سورہ فاتحہ میں مندرج ہیں۔ اور پادری صاحبوں کا یہ فرض ہوگا کہ توریت اور انجیل اور اپنی تمام کتابوں میں سے سورہ فاتحہ کے مقابل پر حقائق اور معارف اور خواص کلام الوہیت جس سے مراد فوق العادۃ عجائبات ہیں جن کا بشری کلام میں پایا جانا ملک نہیں پیش کر کے دکھلائیں ۔ اور اگر وہ ایسا مقابلہ کر یں اور تین منصف غیر قوموں میں سے کہہ دیں کہ وہ لطائف اور معارف اور خواص کلام