سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 358
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۶ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (۳۰) کہ قرآن کی ضرورت کیا تھی۔ اے غافلو! اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔ اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی اور گمراہ پایا اور ہدایت دی اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی تو کیا ابھی ضرورت ثابت ہونے میں کچھ کسر رہ گئی؟ اور اگر یہ کہو کہ توحید تو پہلے بھی موجود تھی قرآن نے نئی چیز کون سی دی ؟ تو اس سے اور بھی تمہاری عقل پر رونا آتا ہے۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توحید پہلی کتابوں میں ناقص طور پر تھی اور تم ہر گز ثابت نہیں کر سکتے کہ کامل تھی۔ ماسوا اس کے تو حید دلوں سے بکلی گم ہو گئی تھی قرآن نے اس تو حید کو پھر یاد دلایا اور اس کو کمال تک پہنچایا۔ قرآن کا نام اسی لئے ذکر ہے کہ وہ یاد دلانے والا ہے۔ ذرا آنکھ کھول کر سوچو کہ کیا توریت نے جو کچھ تو حید کے بارے میں بیان کیا تھا وہ ایک ایسی نئی بات تھی جو پہلے نبیوں کو اس کی خبر نہیں تھی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سب سے پہلے آدم کو اور پھر شیث اور نوح اور ابراہیم اور دوسرے رسولوں کو جو موسیٰ سے پہلے آئے تو حید کی تعلیم ملی تھی ؟ پس یہ توریت پر بھی اعتراض ہے کہ اس نے نئی چیز کونسی پیش کی ۔ اے سج دل قوم خدا روز روز نیا نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ کے وقت میں وہی خدا تھا جو آدم اور شیث اور نوح اور ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور یوسف کے وقت میں تھا۔ اور توریت نے وہی تو حید کے بارے میں بیان کیا جو پہلے نبی کرتے آئے ۔ اب اگر یہ سوال ہو کہ کیوں توریت نے اسی پرانی توحید کا ذکر کیا تو اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور وحدانیت کا مسئلہ توریت سے شروع نہیں ہوا بلکہ قدیم سے چلا آتا ہے۔ ہاں بعض زمانوں میں ترک عمل کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ضرور ہوتا رہا ہے۔ پس خدا کی کتابوں اور خدا کے نبیوں کا یہ کام تھا کہ وہ ایسے وقتوں میں آتے رہے ہیں کہ جب اس مسئلہ تو حید پر لوگوں کی توجہ کم رہ گئی ہو اور طرح طرح کے شرکوں