سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 356
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۴ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب جرائم پیشہ کی موت کا ذریعہ ہے۔ پس جو شخص صلیب پر مر گیا وہ مجرمانہ موت مرا جولعنتی موت ہے لیکن مسیح صلیب پر نہیں مرا اور اس کو خدا نے صلیب کی موت سے بچالیا۔ بلکہ جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ میری حالت یونس سے مشابہ ہے ایسا ہی ہوا نہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرانہ یسوع صلیب کے پیٹ پر اور اس کی دعا ایلی ایلی لما سبقتانی سنی گئی ۔ اگر مرتا تو پیلاطوس پر بھی ضرور و بال آتا کیونکہ فرشتہ نے پیلاطوس کی جورو کو یہ خبر دی تھی کہ اگر یسوع مر گیا تو یا درکھ کہ تم پر وبال آئے گا مگر پیلاطوس پر کوئی وبال نہ آیا۔ اور یہ بھی یسوع کے زندہ رہنے کی ایک نشانی ہے کہ اس کی ہڈیاں صلیب کے وقت نہیں توڑی گئیں اور صلیب پر سے اتارنے کے بعد چھیدنے سے خون بھی نکلا اور اس نے حواریوں کو صلیب کے بعد اپنے زخم دکھلائے ۔ اور ظاہر ہے کہ نئی زندگی کے ساتھ زخموں کا ہونا ممکن نہ تھا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا اس لئے لعنتی بھی نہیں ہوا اور بلاشبہ اس نے پاک وفات پائی اور خدا کے تمام پاک رسولوں کی طرح موت کے بعد وہ بھی خدا کی طرف اٹھایا گیا۔ اور بموجب وعدہ اِنِّی متوفیک و رافعک الی اس کا خدا کی طرف رفع ہوا ۔ اگر وہ صلیب پر مرتا تو اپنے قول سے خود جھوٹا ٹھہرتا کیونکہ اس صورت میں یونس کے ساتھ اس کی کچھ بھی مشابہت نہ ہوتی ۔ سو یہی جھگڑا مسیح کے بارے میں یہود اور نصاریٰ میں چلا آتا تھا جس کو آخر قرآن شریف نے فیصلہ کیا۔ پھر ابھی تک نصاریٰ کہتے ہیں کہ قرآن کے اترنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اے نادانوں! اور دلوں کے اندھو! قرآن کامل توحید لایا۔ قرآن نے عقل اور نقل کو ملا کر دکھلایا ۔ قرآن نے تو حید کو کمال تک پہنچایا ۔ قرآن نے تو حید اور صفات باری پر دلائل قائم کئے ۔ اور خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت عقلی نقلی دلائل سے دیا ۔ اور کشفی طور پر بھی دلائل قائم کئے ۔ اور وہ مذہب جو پہلے قصہ کہانی کے رنگ میں چلا آتا تھا اس کو علمی رنگ میں دکھلایا ۔ اور ہر ایک عقیدہ کو حکمت کا