سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 355

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۳ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب میں صرف قرآن نے ہی دکھلایا ہے۔ شریعت کے بڑے حصے دو ہیں ۔ حق اللہ اور حق العباد ۔ ﴿۲۷﴾ یہ دونوں حصے صرف قرآن شریف نے ہی پورے کئے ہیں۔ قرآن کا یہ منصب تھا کہ تا وحشیوں کو انسان بنادے اور انسان سے با اخلاق انسان بنا دے اور با اخلاق انسان سے با خدا انسان بنائے۔ سو اس منصب کو اُس نے ایسے طور سے پورا کیا کہ جس کے مقابل پر توریت ایک گونگے کی طرح ہے۔ اور منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاریٰ میں واقع تھا اس کو دور کرے۔ سو قرآن شریف نے ان سب جھگڑوں کا فیصلہ کیا جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَی ال اسی جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ہے کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ نصاریٰ کا نبی یعنی مسیح صلیب پر کھینچا گیا ۔ اس لئے موافق حکم تو ریت کے وہ لعنتی ہوا اور اس کا رفع نہیں ہوا اور یہ دلیل اس کے کا ذب ہونے کی ہے اور عیسائیوں کا یہ خیال تھا کہ لعنتی تو ہوا مگر ہمارے لئے اور بعد اس کے لعنت جاتی رہی اور رفع ہو گیا اور خدا نے اپنے رہنے ہاتھ اس کو بٹھا لیا۔ اب اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ رفع بلا توقف ہوا نہ یہودیوں کے زعم پر دائگی لعنت ہوئی جو ہمیشہ کے لئے رفع الی اللہ سے مانع ہے اور نہ نصاری کے زعم پر چند روز لعنت رہی اور پھر رفع الی اللہ ہوا بلکہ وفات کے ساتھ ہی رفع الی اللہ ہو گیا۔ اور ان ہی آیات میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ رفع توریت کے احکام کے مخالف نہیں کیوں کہ توریت کا حکم عدم رفع اور لعنت اس حالت میں ہے کہ جب کوئی صلیب پر مارا جائے مگر صرف صلیب کے چھونے یا صلیب پر کچھ ایسی تکلیف اٹھانے سے جو موت کی حد تک نہیں پہنچتی لعنت لازم نہیں آتی اور نہ عدم رفع لازم آتا ہے کیوں کہ توریت کا منشاء یہ ہے کہ صلیب خدا تعالیٰ کی طرف سے آل عمران : ۵۶