سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۴ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب سے اترتی اور اپنے ساتھ آسمانی نشان رکھتی ہے۔ سو یہ عیسائیوں میں موجود نہیں ۔ پھر کوئی ہمیں سمجھائے کہ لعنتی قربانی کا فائدہ کیا ہوا؟ اب جبکہ اس نجات کے طریق کی تفصیل ہو چکی جو عیسائی یسوع کی طرف منسوب کرتے ہیں تو اس پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی یہی لعنتی محبت اور لعنتی قربانی نوع انسان کی پاکیزگی اور نجات کے لئے پیش کرتا ہے یا کوئی اور طریق پیش کرتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پلید اور ناپاک طریق سے اسلام کا دامن بالکل منزہ ہے ۔ وہ کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا اور نہ لعنتی محبت پیش کرتا ہے بلکہ اس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم کچی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اپنے وجود کی پاک قربانی پیش کریں جو اخلاص کے پانیوں سے دھوئی ہوئی اور صدق اور صبر کی آگ سے صاف کی ہوئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةً أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو۔ سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم یعنی جو شخص اپنے تمام قولی کو خدا کی راہ میں لگادے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے اور حقیقی نیکی کے بجالانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حزن سے نجات بخشے گا۔ یادر ہے کہ یہی اسلام کا لفظ کہ اس جگہ بیان ہوا ہے دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ان لوگوں کی راہ جنہوں نے البقرة : ١١٣ ٢ الفاتحة: ٧،٦