سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 344
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ہی ہے اور کتابوں کے مقرر کردہ نشان اس دعوئی پر گواہی نہیں دیتے تو یہ دعویٰ باطل ہے ۔ کیا انجیل نے بچے اور واقعی ایمان کی کوئی نشانی نہیں لکھی؟ کیا اس نے ان نشانوں کو فوق العادة کے رنگ میں بیان نہیں کیا ؟ پس اگر انجیلوں میں بچے ایمانداروں کے نشان لکھے ہیں تو ہر ایک عیسائی پاک زندگی کے مدعی کو انجیل کے نشانوں کے موافق آزمانا چاہیے۔ ایک بڑے بزرگ پادری کا ایک غریب سے غریب مسلمان کے ساتھ روحانی روشنی اور قبولیت میں مقابلہ کر کے دیکھ لو پھر اگر اس پادری میں اس غریب مسلمان کے مقابل پر کچھ بھی آسمانی روشنی کا حصہ پایا جائے تو ہم ہر ایک سزا کے مستحق ہیں۔ اسی وجہ سے میں کئی دفعہ اس بارے میں عیسائیوں کے مقابل پر اشتہار دے چکا ہوں ۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں اور میرا خدا گواہ ہے کہ مجھ پر ثابت ہو گیا ہے کہ حقیقی ایمان اور واقعی پاک زندگی جو آسمانی روشنی سے حاصل ہو، بجز اسلام کے کسی طرح مل نہیں سکتی۔ یہ پاک زندگی جو ہم کو ملی ہے یہ صرف ہمارے منہ کی لاف و گزاف نہیں اس پر آسمانی گواہیاں ہیں۔ کوئی پاک زندگی بجز آسانی گواہی کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور کسی کے چھپے ہوئے نفاق اور بے ایمانی پر ہم اطلاع نہیں پا سکتے ۔ ہاں جب آسمانی گواہی والے پاک دل لوگ کسی قوم میں پائے جائیں تو باقی قوم کے لوگ بظاہر پاک زندگی نما بھی پاک زندگی والے سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قوم ایک وجود کے حکم میں ہے اور ایک ہی نمونہ سے ثابت ہوسکتا ہے کہ اس قوم کو آسمانی پاک زندگی مل سکتی ہے۔ اسی بنا پر میں نے عیسائیوں کے لئے ایک فیصلہ کرنے والا اشتہار دیا تھا۔ پس اگر ان کو حق کی طلب ہوتی تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ عیسائیوں کو بھی ایمان اور پاک زندگی کا دعویٰ ہے اور مسلمانوں کو بھی۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے خدا کے نزدیک کس کا ایمان مقبول اور کس کی واقعی پاک زندگی ہے۔ لا نوٹ: اس جگہ کوئی گذشتہ قصہ پیش کرنا لغو ہے موجودہ واقعات کو بالمقابل دکھلانا چاہیے۔ منہ ۔