سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 342
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (۱۳) بڑھتے ہیں اور ان کا قومی مجمع عزت اور علم اور وقار کا رنگ پکڑتا جاتا ہے اسی قدر ان کے نیک فطرت لوگ اپنی پاک زندگی اور نیک چلنی میں زیادہ ناموری حاصل کرتے ہیں اور نمایاں چمک کے ساتھ اپنا نمونہ دکھلاتے ہیں۔ اگر تمام قوموں کے بعض افراد میں فطرتاً سعادت کا مادہ نہ ہوتا تو تبدیل مذہب سے بھی وہ مادہ پیدا نہ ہو سکتا کیونکہ خدا کی فطرت میں تبدیل نہیں۔ اگر کوئی حقیقی سچائی کا بھوکا اور پیاسا ہے تو ضرور اس کو ماننا پڑے گا کہ مذہب کے وجود سے پہلے یہ خدا داد تقسیم طبائع میں ہو چکی ہے کہ کسی کی فطرت میں غلبہ علم اور محبت اور کسی کی فطرت میں غلبہ درشتی اور غضب ہے۔ اب مذہب یہ سکھلاتا ہے کہ وہ محبت اور اطاعت اور صدق اور وفا جو مثلاً ایک بت پرست یا انسان پرست مخلوق کی نسبت عبادت کے رنگ میں بجا لاتا ہے ان ارادوں کو خدا کی طرف پھیرے اور وہ اطاعت خدا کی راہ میں دکھلائے ۔ یہ سوال کہ مذہب کا تصرف انسانی قومی پر کیا ہے انجیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ انجیل حکمت کے طریقوں سے دور ہے۔ لیکن قرآن شریف بڑی تفصیل سے بار بار اس مسئلہ کو حل کرتا ہے کہ مذہب کا یہ منصب نہیں ہے کہ انسانوں کی فطرتی قومی کی تبدیل کرے اور بھیڑیے کو بکری بنا کر دکھلائے بلکہ مذہب کی صرف علت غائی یہ ہے کہ جو قوی اور ملکات فطرتا انسان کے اندر موجود ہیں ان کو اپنے محل اور موقعہ پر لگانے کے لئے رہبری کرے۔ مذہب کا یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی فطرتی قوت کو بدل ڈالے۔ ہاں یہ اختیار ہے کہ اس کو محل پر استعمال کرنے کے لئے ہدایت کرے اور صرف ایک قوت مثلا رحم یا عفو پر زور نہ ڈالے بلکہ تمام قوتوں کے استعمال کیلئے وصیت فرمائے کیونکہ انسانی قوتوں میں سے کوئی بھی قوت بُری نہیں بلکہ افراط اور تفریط اور بد استعمالی بری ہے اور جو شخص قابل ملامت ہے وہ صرف فطرتی قوی کی وجہ سے قابل ملامت نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی کی وجہ سے قابل