سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 341
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۹ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب یہی ہے کہ لعنتی قربانی پر ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ گناہ نہیں رہتا۔ چوری کرو، زنا کرو، (۱۳) خون ناحق کرو، جھوٹ بولو، امانت میں خیانت کرو۔ غرض کچھ کرو کسی گناہ کا مواخذہ نہیں تو ایسا مذہب ایک ناپاکی پھیلانے والا مذہب ہوگا۔ اور وقت کی گورنمنٹ کو مناسب ہوگا کہ ایسے عقائد کے پابندوں کی ضمانتیں لیوے۔ اور اگر پھر اس خیال کو دوبارہ پیش کرو کہ لعنتی قربانی پر ایمان لانے والا کچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گناہ سے پاک ہو جاتا ہے تو ہم اس کا جواب پہلے دے چکے ہیں کہ یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے اور ہم ابھی داؤد نبی کا گناہ۔ یسوع کی نانیوں کے گناہ اور حواریوں کے گناہ اور حضرات پادری صاحبوں کے گناہ لکھ چکے ہیں۔ اور اس بات کو تمام اہل تجر بہ جانتے ہیں کہ یورپ ان دنوں میں بدکاریوں میں اول درجہ پر ہے ۔ اگر فرض کے طور پر کسی کی پاک زندگی کی نظیر دی جائے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں اس کی زندگی پاک ہے۔ بہتیرے بدمعاش، حرام خور، زانی ، دیوث ، شراب خوار، خدا کے منکر بظاہر پاک زندگی دکھلا سکتے ہیں اور اندر سے ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جن میں بجز متعفن مردہ اور اس کی ہڈیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ماسوا اس کے یہ خیال کرنا بھی بے جا ہے کہ کسی قوم کے سارے کے سارے اپنی فطرت کی رو سے نیک یا سب کے سب فطرتاً بد معاش ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت نے یہ دعویٰ کرنے کا حق ہر ایک قوم کو بخشا ہے کہ جیسے ان میں بعض لوگ فطرنا بد اخلاق اور بدسرشت اور بداندیش اور بد کردار ہیں ایسا ہی بمقابلہ ان کے بعض دوسرے لوگ فطرتا دل کے غریب نیک خلق نیک چلن نیک کردار ہیں۔ اس قانون قدرت سے نہ ہند و باہر ہیں نہ پارسی نہ یہودی نہ سکھ نہ بدھ مذہب والے یہاں تک کہ چوہڑے اور چمار بھی اسی قانون میں داخل ہیں اور جیسے جیسے لوگ تہذیب اور شائستگی میں