سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 331
۳۲۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش۔ کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے (۳) تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔ (۳) تیسرا علاج تو بہ ہے۔ یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلیل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں با ہر نکالنا۔ اور تو بہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔ تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے نزدیک ہو جائیں۔ دعا بھی تو بہ ہے کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈتے ہیں اسی لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے۔ اور اس کا نام نفس رکھتا کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کر نیوالا ہے۔ خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ہوتا ہے۔ یہی انسان کا جنت ہے۔ اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہر یلے بخارات باہر نکالتا ہے اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے اور بڑی آسانی سے ان مواد کو دفع کرتا ہے اور خدا میں ہو کر پاک نشو و نما پاتا جاتا ہے اور بہت پھیلتا اور خوشنما سرسبزی دکھلاتا اور اچھے پھل لاتا ہے مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشو ونما دینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا اس لئے دم بدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے آخر پتے بھی گر جاتے ہیں اور خشک اور بدشکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔ پس چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی کے دور کرنے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے جس پر قانون قدرت گواہی دیتا ہے ۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ کر کے فرماتا ہے ۔ یا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ ی نوٹ: نفس لغت میں عین شے کے معنے رکھتا ہے۔ منہ