سراجِ منیر — Page 63
روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج منیر تھا۔ پس اگر ایسا نہیں ہوا تو اس نے اس لعنت میں سے کیا حصہ لیا جس پر نجات کا تمام مدار ٹھیرا بہ گیا ہے۔ کیا تو ریت گواہی نہیں دیتی کہ مصلوب لعنتی ہے پس اگر مصلوب لعنتی ہوتا ہے تو بیشک وہ لعنت جو عام طور پر مصلوب ہونے کا نتیجہ ہے صیح پر پڑی ہوگی لیکن لعنت کا مفہوم دنیا کے اتفاق کی رو سے خدا سے دور ہونا اور خدا سے برگشتہ ہونا ہے فقط کسی پر مصیبت پڑنا یہ لعنت نہیں ہے بلکہ لعنت خدا سے دوری اور خدا سے نفرت اور خدا سے دشمنی ہے اور لعین لغت کی رو سے شیطان کا نام ہے۔ اب خدا کے لئے سوچو کہ کیا روا ہے کہ ایک راستباز کو خدا کا دشمن اور خدا اسے برگشتہ بلکہ شیطان نام رکھا جائے اور خدا کو اس کا دشمن ٹھیرایا جائے۔ بہتر ہوتا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کر لیتے مگر اس برگزیدہ انسان کو ملعون اور شیطان نہ ٹھیراتے۔ ایسی نجات پر لعنت ہے جو بغیر اس کے جو راستبازوں کو بے ایمان اور شیطان قرار دیا جائے مل نہیں سکتی ۔ قرآن شریف نے یہ خوب سچائی ظاہر کی کہ مسیح کو صلیبی موت سے بچا کر لعنت کی پلیدی سے بری رکھا اور انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے کیونکہ مسیح نے یونس کے ساتھ اپنی تشبیہ پیش کی ہے اور کوئی عیسائی اس سے بے خبر نہیں کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا تھا پھر اگر یسوع قبر میں مردہ پڑا رہا تو مردہ کو زندہ سے کیا مناسبت اور زندہ کو مردہ سے کونسی مشابہت ۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ یسوع نے صلیب سے نجات پاکر شاگردوں کو اپنے زخم دکھائے پس اگر اس کو دوبارہ زندگی جلالی طور پر حاصل ہوئی تھی تو اس پہلی زندگی کے زخم کیوں باقی رہ گئے کیا جلال میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی اور اگر کسر رہ گئی تھی تو کیونکر امید رکھیں کہ وہ زخم پھر کبھی قیامت تک مل سکیں گے یہ بیہودہ قصے ہیں جن پر خدائی کا شہتیر رکھا گیا ہے مگر وقت آتا ہے بلکہ آ گیا کہ جس طرح روئی کو دھنکا جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ ان تمام قصوں کو ذرہ ذرہ کر کے اڑا دے گا۔ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ یہ کیسا خدا تھا جس کے زخموں کیلئے مرہم بنانے کی حاجت پڑی تم سن چکے ہو کہ عیسائی اور رومی اور یہودی اور مجوسی دفتروں کی قدیم طبی کتابیں جواب تک موجود ہیں گواہی دے رہی ہیں کہ یسوع کی چوٹوں کے لئے ایک مرہم طیار کیا گیا تھا جس کا نام (۵۷) مرہم عیسی ہے جو اب تک قرابادینوں میں موجود ہے نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرہم نبوت کے زمانہ