سراجِ منیر — Page 52
روحانی خزائن جلد۱۳ ۵۴ سراج منیر والی تھی اور انہیں کما حقہ اس بات کا علم تھا کہ اس نے اپنی حرکات سے خوف ظاہر کیا استقامت ظاہر نہیں کی اور پہلی وضع متعصبانہ کو ایسا بدل دیا کہ اثناء میعاد میں دین اسلام کی مخالفت میں بھی دو سطر کا مضمون بھی کسی اخبار میں نہیں چھپوایا اور نہ کوئی رسالہ نکالا جیسا کہ اس کی قدیم سے عادت تھی اور نہ کسی مسلمان سے بحث کی بلکہ اس طرح پر دنوں کو گزارا جیسا کہ کسی نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہوتا ہے اور پھر طرفہ یہ کہ چار ہزار روپیہ دینے پر بھی قسم نہ کھائی اور مارٹن کلارک سر پیٹ پیٹ کر رہ گیا مگر نالش نہ کی اور تعلیم یافتہ سانپ وغیرہ الزاموں کو ثابت نہ کر سکا۔ ان تمام وجوہات سے پادری صاحبوں کو یقینی علم تھا کہ وہ بزدل اور ڈرپوک نکلا۔ اور میعاد کے بعد بھی وہ اپنا قصہ یاد کر کے رویا لیکن پادریوں نے خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا اور امرتسر کے بازاروں میں اس کو لئے پھرے کہ دیکھو آتھم صاحب زندہ موجود ہے اور پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ بہت سے پلید طبع مولوی جو نام کے مسلمان تھے اور چند نالائق اور دنیا پرست اخبار والے ان کے ساتھ ہو گئے اور لعن طعن اور تکذیب (۴۷) اور تبرا بازی میں ان کے بھائی بن بیٹھے اور بڑے جوش سے اسلام کی خفت کرائی۔ پھر کیا تھا عیسائیوں کو اور بھی موقعہ ہاتھ لگا۔ پس انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے ۔ ان پر آسمان سے خدا کی لعنت برس رہی تھی مگر ان کو نظر نہیں آتی تھی۔ اس وقت وہ غضب الہی کے نیچے تھے مگر نفسانی جوش کے گرد و غبار سے اندھے کی طرح ہو ر ہے تھے ۔ یہ لوگ اس وقت شیطان کی آواز کے مصدق تھے اور آسمان کی آواز کی کچھ پرواہ نہ تھی۔ انہیں دنوں میں ایک بے نصیب نالائق مسلمان ایڈیٹر نے لاہور سے اپنے اخبار میں آتھم کو مخاطب کر کے اور میرا نام لے کر لکھا کہ تھم صاحب خلق اللہ پر احسان کریں گے اگر نالش کر کے اس شخص کو سزا دلائیں گئے ۔ اس نادان نے اپنے ان پر جوش لفظوں سے مردہ کو بلانا چاہا مگر چونکہ وہ مر چکا تھا اس لئے ہل نہ سکا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں خود چاہتا تھا کہ اگر آتھم نے قسم نہیں کھائی تو بارے نالش ہی کرتا مگر آتھم