سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 494

سراجِ منیر — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۵۳ سراج منیر کے ذکر کے بعد پھر اس الہام کو پڑھے گا الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم توان تین فتنوں کے تصور سے جو صفحہ ۲۴۱ اور صفحہ ۵۱۱ اور ۵۵۷ براہین احمدیہ میں اس وقت سے سترہ برس پہلے لکھی ہوئی ہیں طبعاً اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ یہ تین فتنے کیسے ہیں جن میں سے ایک عیسائیوں سے تعلق رکھتا ہے اور ایک کسی منصوبہ باز مسلمان سے اور ایک کھلے کھلے نشان کے ظہور کے وقت سے۔ اور پھر جب واقعات کی تلاش میں پڑے گا تو وہ تین بھاری بلوے اس کی نظر کے سامنے آجائیں گے جو ہر ایک ان میں سے فتنہ عظیم کہلانے کا مستحق ہے۔ تب خدا کا عمیق علم دیکھے کر ضرور سجدہ کرے گا جس نے اس وقت یہ خبریں دیں جبکہ ان تینوں فتنوں کا نام ونشان نہ تھا اگر یہ تینوں فتنے چیستاں کے طور پر کسی واقعات کے جاننے والے کے سامنے پیش کئے جائیں تو فی الفور (۴۶) وہ جواب دے گا کہ ایک فتنہ آتھم کی پیشگوئی کے متعلق کا ہے جو عیسائیوں اور ان کے حامی بخیل مسلمانوں سے ظہور میں آیا یعنی ان مسلمانوں سے جن کا نام اس پیشگوئی میں یہود رکھا ہے اور دوسرا فتنہ محمد حسین بٹالوی کی تکفیر کا فتنہ ہے۔ اور تیسرا وہ فتنہ جو ہندوؤں کی طرف سے نشان الہی کے ظہور کے بعد وقوع میں آیا۔ یہ تین فتنے ہیں جو پُر شور و بلوہ کی طرح ظہور میں آئے جن کی خدا نے سترہ برس پہلے خبر دے دی تھی !!! اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان تینوں فتنوں میں سے کوئی فتنہ بھی قومی شور و غوغا سے خالی نہ تھا اور ہر ایک میں انتہائی درجہ کا جوش بھرا ہوا تھا اور ہر ایک میں غیر معمولی غل غپاڑہ اٹھا تھا چنانچہ عیسائیوں کا فتنہ اُس وقت وقوع میں آیا تھا جب آتھم میعاد پیشگوئی کے بعد زندہ پایا گیا۔ پادریوں کو خوب معلوم تھا کہ الہامی پیشگوئی میں صریح شرط تھی کہ آتھم رجوع کی حالت میں جو ایک دلی فعل ہے میعاد میں مرنے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور یہ بھی وہ خوب جانتے تھے کہ آتھم پیشگوئی کی ہیبت سے ضرور ڈرتا رہا اور وہ ایام میعاد میں عیسائیت کے تعصب پر قائم نہیں رہ سکا اور ان کی مجلسوں سے بھاگ کر فیروز پور کے گوشہ خلوت میں جا بیٹھا اور نیز ان کو خوب معلوم تھا کہ ایک دفعہ بیماری کے وقت میں اس نے یہ بھی کہا کہ ” میں پکڑا گیا اور خوب جانتے تھے کہ فطرتا اس کی روح ڈرنے