سراجِ منیر — Page 27
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۹ سراج منیر اور قوموں کے درمیان سے بغض اور کینے دور ہو جائیں کیونکہ عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔ اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔ پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔ اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔ پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا ﴿۲۵﴾ کے لائق کہ ایک قاتل کیلئے ہونی چاہیے۔ اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے۔ یہ طریق نہایت سادہ اور راستی کا فیصلہ ہے۔ شاید اس طریق سے ہمارے مخالف مولویوں کو بھی فائدہ پہنچے۔ میں نے سچے دل سے یہ لکھا ہے مگر یادر ہے کہ ایسی آزمائش کرنے والا خود قادیان میں آوے اس کا کرایہ میرے ذمہ ہوگا ۔ جانبین کی تحریرات چھپ جائیں گی۔ اگر خدا نے اس کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کیا جس میں انسان کے ہاتھوں کی آمیزش نہ ہو تو میں کا ذب ٹھہروں گا اور تمام دنیا گواہ رہے کہ اس صورت میں میں اسی سزا کے لائق ٹھہروں گا۔ جو مجرم قتل کو دینی چاہیے میں اس جگہ سے دوسرے مقام نہیں جا سکتا۔ مقابلہ کرنے والے کو آپ آنا چاہیے مگر مقابلہ کرنے والا ایک ایسا شخص ہو جو دل کا بہت بہادر اور جوان اور مضبوط ہو۔ اب بعد اس کے سخت بے حیائی ہوگی کہ کوئی غائبانہ میرے پر ایسے نا پاک شبہات کرے میں نے طریق فیصلہ آگے رکھ دیا ہے۔ اگر میں اس کے بعد روگردان ہو جاؤں تو مجھ پر خدا کی لعنت اور اگر کوئی اعتراض کرنے والا بہتانوں سے باز نہ آوے اور اس طریق فیصلہ سے طالب تحقیق نہ ہو تو اس پر لعنت ۔ اے شتاب کار لوگو جیسا کہ تمہارا گمان ہے مجھے کسی قوم سے عداوت نہیں۔ ہر یک نوع انسان سے ہمدردی