سراجِ منیر — Page 22
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴ سراج منیر صاحب راقم لکھتے ہیں کہ اگر چہ آپ حافظ حقیقی کی حمایت میں ہیں تا ہم رعایت اسباب ضروری ہے۔ اور میرے نزدیک ایسے وقت میں شریر مسلمانوں سے بھی پر ہیز لازم ہے کیوں کہ وہ طامع اور بد باطن ہیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ وہ بظاہر بیعت میں داخل ہو کر آریوں کی طمع دہی سے اس کام کے لئے جرات کریں۔ پھر صاحب راقم لکھتے ہیں کہ " مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مشور ہ قتل کے سرگروہ اس شہر کے بعض وکیل اور چند عہدہ دار سرکاری اور بعض آریہ رئیس و سرکردگان لاہور کے ہیں ۔ جس قدر مجھے خبر پہونچی ہے میں نے عرض کر دیا واللہ اعلم ۔ اور اسی کا مصدق ایک خط پنڈ دادنخان سے اور کئی اور جگہ سے پہونچے ہیں اور مضمون قریب قریب ہے ۔ یہ سب خط محفوظ ہیں۔ اور جس جوش کو بعض آر یہ صاحبوں کے اخبار نے ظاہر کیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ ایسے جوش کے وقت یہ خیالات بعید نہیں ہیں ۔ چنانچہ ضمیمہ اخبار پنجاب سما چار لا ہور میں میری نسبت یہ چند سطریں لکھی ہیں ۔ ایک حضرت نے شاید اپنی مصنفہ کتاب موعود بسیجی میں یہ پیشگوئی بھی کی کہ پنڈت لیکھرام چھ سال کے عرصہ میں عید کے دن نہایت دردناک حالت میں مرے گا۔ یہ پیشگوئی اب قریب تھی کیوں کہ غالباً ۱۸۹۷ ء چھٹا سال تھا اور ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء آخری عید چھٹے سال کی تھی ۔ علانیہ بذریعہ تحریر و تقریر کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مارڈالیں گے اور (۲۱) مزید براں یہ کہ پنڈت اس عرصہ میں اور فلاں دن میں ایک درد ناک حالت میں مرے گا۔ کیا آریہ دھرم کے اس مخالف اور چند ایک کتب کے ایک خاص مصنف کو (یعنی اس عاجز کو ) اس سازش سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ اس اخبار والے نے اور ایسا ہی دوسروں نے اس پیشگوئی سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ ایک منصوبہ تھا جو پیشگوئی کے طور پر مشہور کیا گیا جیسا کہ وہ اسی اخبار کے دوسرے صفحہ میں لکھتا ہے کہ یہ قتل کئی ایک اشخاص کی مدت کی سوچی اور مجھی ہوئی اور پختہ سازش کا نتیجہ ہے ۔ ہم اس بات کو خود مانتے اور قبول کرتے ہیں کہ پیشگوئی کی تشریح میں بار بار تفہیم الہی سے یہی لکھا گیا تھا کہ وہ ہیبت ناک طور پر ظہور میں آئے گی اور نیز یہ کہ لیکھرام کی موت کسی بیماری سے نہیں ہوگی بلکہ خدا کسی ایسے کو اس پر مسلط کرے گا جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہو گا مگر جو پنجاب