سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 494

سراجِ منیر — Page 16

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۸ سراج منیر جواکثر لوگ منہ سے بول دیا کرتے ہیں۔ میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کے لئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شاید اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کوئی بھی مل نہ سکے۔ ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اور مکر مخفی نہیں رہ سکتا مگر یہ تو راستبازوں کیلئے اور بھی خوشی کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اور سچ میں فرق کرنا جانتا ہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اور بخوشی اور دوڑ کر سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔ اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کر الیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ زمانہ صدہا ایسی نئی باتوں کو قبول کرتا جاتا ہے جولوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں ۔ اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے۔ زمانہ بیشک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن۔ اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور سیدھے سادھے لوگوں کا وقت گذر گیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مذمت ہے۔ گویا یہ زمانہ ایک ایسا بد زمانہ ہے کہ سچائی کو واقعی طور پر سچائی پا کر پھر اس کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ تر میری طرف رجوع کرنے والے (11) اور مجھ سے فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو نو تعلیم یافتہ ہیں جو بعض ان میں سے بی اے اور ایم اے تک پہنچے ہوئے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ تو تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ صداقتوں کو بڑے شوق سے قبول کرتا جاتا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایک نومسلم اور تعلیم یافتہ یوریشین انگریزوں کا گروہ جن کی سکونت مدراس کے احاطہ میں ہے ہماری جماعت میں شامل اور تمام صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جو ایک خدا ترس آدمی کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ آریوں کا اختیار ہے کہ میرے اس مضمون پر بھی اپنی طرف سے جس طرح چاہیں حاشیے چڑھا ئیں مجھے اس بات پر کچھ بھی نظر نہیں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اس پیشگوئی کی تعریف کرنا یا مذمت کرنا دونوں برابر ہیں ۔ اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ اسی کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلا دے گا۔ اور اگر اس کی طرف سے نہیں