سراجِ منیر — Page 11
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳ سراج منیر تھی جو وہ کئی برس تک ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی میں چلاتا رہا۔ پس وہی زبان کی تیزی چھری کی شکل پر متمثل ہو کر اس کے پیٹ میں گھس گئی ۔ جب تک آسمان پر چھری نہ چلے زمین پر ہرگز چل نہیں سکتی ۔ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ لیکھر ام اب مارا گیا لیکن میں تو اس وقت سے مقتول سمجھتا تھا جب میرے پاس ایک فرشتہ خونی شکل میں آیا اور اس نے پوچھا کہ لیکھر ام کہاں ہے چنانچہ یہ سب مضمون ان پیشگوئیوں میں پڑھو گے جو ذیل میں لکھی جاتی ہیں ۔ اول (اشتہار بیل فروری ۱۸۸۶ء میں پنڈت لیکھرام کی نسبت صرف اس قدر صفحہ ہم میں پیشگوئی ہے ) کہ لیکھرام صاحب پشاوری کی قضا و قدر وغیرہ کے متعلق غالباً اس رسالہ میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا ۔ اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک 1 کے دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے ۔ اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ دی جائے ۔ پھر بعد اس کے پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر میعاد مقرر ہوئی چاہیے۔ پھر بعد اس کے مفصلہ ذیل الہامات ہوئے ۔ دوم ۔ الہام مندرجہ رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر۱۳۱۱ ہجری وعدنی رَبّى واستجاب دعائي في رجل مُفسد عدو الله و رسوله المسمّى ليكهرام الفشاوری و اخبرني انه من الهالكين۔ انه كان يسب نبى الله و يتكلم فى شانه بكلمات خبيثة۔ فدعوت عليه۔ فبشرني ربي بموته في ستة سنة ان في ذلك لآية للطالبین - یعنی خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور نا پاک کھلے زبان پر لاتا ہے جس کا نام بیحرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعاسنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔ یہ ان کے لئے نشان ہے جو