سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 494

سراجِ منیر — Page 4

سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) نزدیک مسیح اسرائیلی نبی کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پس جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آگیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیوں کر اور کیسا ہوا۔ کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور ۔ کیا یہ عقیدہ ہے کہ تمہارا فرضی مسیح وحی سے بکلی بے نصیب ہو کر آئے گا ؟ تو بہ کرو اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو ۔ اگر دل سخت نہیں ہو گئے تو اس قدر کیوں دلیری ہے کہ خواہ نخواہ ایسے شخص کو کا فر بنایا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوحقیقی معنوں کی رو سے خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہے ۔ تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اہل قبلہ ہے اور شریعت کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے۔ اے مفتری لوگو! میں نے کسی نبی کی تو ہین نہیں کی ۔ میں نے کسی عقیدہ صحیحہ کے برخلاف نہیں کہا۔ پر اگر تم خود نہ سمجھو تو میں کیا کروں۔ تم تو قائل ہو کہ جز ئی فضیلت ایک ادنی شہید کو ایک بڑے نبی پر ہو سکتی ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ میں خدا کا فضل اپنے پر مسیح سے کم نہیں دیکھتا مگر یہ کفر نہیں یہ خدا کی نعمت کا شکر ہے۔ تم خدا کے اسرار کو نہیں جانتے اس لئے کفر سمجھتے ہو ۔ اس کو کیا کہو گے جو کہ گیا هو افضل من بعض الانبیاء اگر میں تمہاری نظر میں کافرہوں تو بس ایسا ہی کا فرجیسا کہ ابن مریم یہودی فقیہوں کی نظر میں کا فرتھا۔ میرے پاس خدا کے فضل کی اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہیں مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے ۔ خوب یا درکھو کہ مجھ کو کا فرکہنا آسان نہیں۔ تم نے ایک بھاری بوجھ سر پر اٹھایا ہے اور تم سے ان سب باتوں کا جواب پوچھا جائے گا !! اے بدقسمت لوگو! تم کہاں گرے کونسی چھپی ہوئی بداعمالیاں تھیں جو تمہیں پیش آ گئیں۔ اگر تم میں ایک ذرہ بھی نیکی ہوتی تو خدا تمہیں ضائع نہ کرتا ابھی کچھ تھوڑا وقت ہے اور بہت سا ثواب کھو چکے ہو باز آ جاؤ۔ کیا خدا سے اس بیوقوف کی طرح لڑائی کرو گے جو زور آور کے آگے سے نہیں ہٹ جاتا یہاں تک کہ مار سے پیسا جاتا اور کچلا جاتا ہے اور آخر ہڈیاں چور ہو کر اور مردہ سا بن کر زمین پر گر پڑتا ہے ۔ یہودیوں نے لڑائی سے کیا لیا اور تم کیا لو گے؟ هذا و بعد الموت نحن نخاصم ۔ بہت کچھ صوفیوں نے بھی انسانی کمالات