سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 494

سراجِ منیر — Page 2

روحانی خزائن جلد ۱۳ سراج منیر عادت انجو بے دکھلائے ۔ سواے قوم کے بزرگو! اور دانشمندو! ذرا ٹھنڈے ہو کر واقعات پر غور کرو۔ کیا یہ واقعات کا ذبوں سے ملتے ہیں یا بچوں سے بھی کسی نے سنا کہ کاذب کے لئے آسمان پر نشان ظاہر ہوئے۔ کبھی کسی نے دیکھا کہ کا ذب اپنے اعجوبوں میں صادقوں پر غالب آسکا۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ کا ذب اور مفتری کو افتراؤں کے دن سے پچیس برس تک مہلت دی گئی جیسا کہ اس بندہ کو ۔ کا ذب یوں ملا جاتا ہے جیسے کھٹمل اور ایسا نابود کیا جاتا ہے جیسا کہ ایک بلبلہ ۔ اگر کا ذبوں اور مفتریوں کو اتنی مدتوں تک مہلت دی جاتی اور صادقوں کے نشان ان کی تائید کے لئے ظاہر کئے جاتے تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا اور کارخانہ الوہیت بگڑ جاتا۔ پس جب تم دیکھو کہ ایک مدعی پر بہت شور اٹھا۔ اور اس کی مخالفت کی طرف دنیا جھک گئی اور بہت آندھیاں چلیں اور طوفان آئے پر اس پر کوئی زوال نہ آیا تو فی الفور سنبھل جاؤ اور تقویٰ سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم خدا سے لڑنے والے ٹھہرو۔ صادق تمہارے ہاتھ سے کبھی ہلاک نہیں ہوگا۔ اور راستباز تمہارے منصوبوں سے تباہ نہیں کیا جائے گا۔ تم بد قسمتی سے بات کو دور تک مت پہنچاؤ کہ جس قدر تم سختی کرو گے وہ تمہاری طرف ہی عود کرے گی۔ اور جس قدر اس کی رسوائی چاہو گے وہ الٹ کر تم پر ہی پڑے گی۔ اے بد قسمتو ! کیا تمہیں خدا پر بھی ایمان ہے یا نہیں۔ خدا تمہاری مرادوں کو اپنی مرادوں پر کیوں کر مقدم رکھ لے اور اس سلسلہ کو جس کا قدیم سے اس نے ارادہ کیا ہے کیونکر تمہارے لئے تباہ کر ڈالے تم میں سے کون ہے جو ایک دیوانہ کے کہنے سے اپنے گھر کو مسمار کر دے اور اپنے باغ کو کاٹ ڈالے اور اپنے بچوں کا گلا گھونٹ دے۔ سواے نادانوں! اور خدا کی حکمتوں سے محرومو! یہ کیوں کر ہو کہ تمہاری احمقانہ دعائیں منظور ہو کر خدا اپنے باغ اور اپنے گھر اور اپنے پروردہ کو نیست و نابود کر ڈالے ۔ ہوش کرو اور کان رکھ کر سنو ! کہ آسمان کیا کہہ رہا ہے اور زمین کے وقتوں اور موسموں کو پہچانو تا تمہارا بھلا ہو ۔ اور تائم خشک درخت کی طرح کاٹے نہ جاؤ اور تمہاری زندگی کے دن بہت ہوں ۔ بیہودہ اعتراضوں کو چھوڑ دو اور ناحق کی نکتہ چینیوں سے پر ہیز کر و اور فاسقانہ خیالات سے اپنے تئیں بچاؤ ۔ جھوٹھے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا تم نے نہیں