سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 494

سراجِ منیر — Page xxii

جلسۂ احباب ۲۰؍ جون ۱۸۹۷ ؁ء کو قادیان میں بھی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب پر ایک عام جلسہ کیا گیا۔جس میں شمولیت کے لئے باہر سے بھی احباب تشریف لائے۔اور گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق مبارکباد کا ریزولیوشن پاس کر کے تار کے ذریعہ سے وائسرائے ہند کو بھیجا گیا اور ’’تحفۂ قیصریہ‘‘ کی چند کاپیاں نہایت خوبصورت جلد کرا کے اُن میں سے ایک ملکہ وکٹوریہ قیصرۂ ہند کی خدمت میں بھیجنے کے لئے ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کو اور ایک وائسرائے گورنر جنرل کو اور ایک جناب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو بھیجی گئی۔اور جلسہ عام میں چھ زبانوں میں جو دُعا کی گئی اس میں خاص طو رپر یہ دعا بھی کی گئی تھی کہ ’’اے قادر توانا! ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دُعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ پر اس کا خاتمہ کر۔‘‘ (جلسۂ احباب۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۹۰) اس جلسۂ احباب کی مکمل روئیداد اِس جلد کے صفحہ ۲۸۵۔۳۱۴ میں درج ہے۔محمود کی آمین سیّدنا حضرت محمود ایّدہ اﷲ بنصرہ العزیز نے جب قرآن ختم کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جون ۱۸۹۷ ؁ء میں اِس خوشی کے موقعہ پر ایک تقریب منعقد کی جس میں باہر کے احباب بھی شامل ہوئے اور تمام حاضرین کو پُرتکلّف دعوت دی گئی۔اس مبارک تقریب کے لئے آپ نے ایک منظوم آمین لکھ کر ۷؍جون کو چھپو ا لی جو اس تقریب پر پڑھ کر سُنائی گئی۔اندر خواتین پڑھتی تھیں اور باہر مرد اور بچّے پڑھتے تھے۔یہ آمین نہایت درجہ سوز و درد میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کا مجموعہ ہے۔