سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 494

سراجِ منیر — Page 87

19 سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ لک بانی معترف بصلاح حالک بلا ارتیاب و موقن بانک من عباد الله الصلحین و فی سعیک المشکور مثاب وقد اوتيت الفضل من الملك الوهاب | و لك ان تسئل من الله تعالی خیر عاقبتی و ادعولكم حسن ماب ولو لا خوف الاطناب لازددت فى الخطاب - والسّلام علی من سلك سبيل الصواب - فقط ۲۷ رجب ۱۳۱۴ھ من مقام چاچڑاں ۔ فقیر غلام فرید ر خادم الفقرا ۱۳۰۱ ترجمہ ۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو رب الارباب ہے اور درود اس رسول مقبول پر جو یوم الحساب کا شفیع ہے اور نیز اس کے آل اور اصحاب پر اور تم پر سلام اور ہر ایک پر جو راہ صواب میں کوشش کرنے والا ہو۔ اس کے بعد واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کے لئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر چہ میں عدیم الفرصت تھا تا ہم میں نے اس کتاب کے ایک جز کو جو حسن خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھی پڑھی ہے ۔ سواے ہر ایک حبیب سے عزیز تر تجھے معلوم ہو کہ میں ابتدا سے تیرے لئے تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو۔ اور کبھی میری زبان پر بجز تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا اور اب میں تجھے مطلع کرتا ہوں کہ میں بلاشبہ تیرے نیک حال کا معترف ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عند اللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے میرے لئے عاقبت بالخیر کی دعا کر اور میں آپ کے لئے انجام خیر و خوبی کی دعا کرتا ہوں۔ اگر مجھے طول کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں زیادہ لکھتا۔ والسلام علی من سلک سبیل الصواب ۔ اس کا جواب نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم من عبدالله الاحد غلام احمد عافاه الله وايد الى الشيخ الكريم السعيد حبـي فـي الـلـه غـلام فـريـد السلام عليكم و رحمة الله وبركاته۔ اما بعد فاعلم ايها العبد الصالح قد بلغنی منک مکتوب ضُمّح بعطر الاخلاص