سراجِ منیر — Page 79
روحانی خزائن جلد ۱۲ ΔΙ سراج منیر وہ تمام باتیں تجھے بخش دیں جو تیری زبان پر جاری ہوئیں اور تیری تکفیر اور تکذیب کو میں نے معاف کیا اس کے بعد ہی وہ اپنے اصلی قد پر نظر آیا اور سفید کپڑے نظر آئے پھر میں نے کہا جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا آج وہ پورا ہو گیا پھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے جان کندن میں ہے میں نے کہا کہ اب عنقریب وہ مر جائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اس کی موت کے دن صلح ہوگی پھر میں نے محمد حسین کو یہ کہا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ صلح کے دن کی یہ نشانی ہے کہ اس دن بہاء الدین فوت ہو جائے گا۔ محمد حسین نے اس بات کو سن کر نہایت تعظیم کی نظر سے دیکھا اور ایسا تعجب کیا جیسا کہ ایک شخص ایک واقعہ صحیحہ کی عظمت سے تعجب کرتا ہے اور کہا یہ بالکل سچ ہے اور واقعی بہاء الدین فوت ہو گیا پھر میں نے اس کی دعوت کی اور اس نے ایک خفیف عذر کے بعد دعوت کو قبول کر لیا اور پھر میں نے اس کو کہا کہ میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ صلح بلا واسطہ ہو گی سو جیسا کہ دیکھا تھا ویسا ہی ظہور میں آگیا اور یہ بدھ کا دن اور تاریخ ۱۲؍ دسمبر ۱۸۹۴ تھی۔ چھتیسویں پیشگوئی۔ چھتیسویں پیشگوئی یہ ہے جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھ چکا ہوں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیری عمر اسی برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہوگی اور یہ الہام قریباً نہیں یا بائیس برس کے عرصہ کا ہے جس سے بہت لوگوں کو اطلاع دی گئی اور ازالہ اوہام میں بھی درج ۸۰ ہو کر شائع ہو گیا۔ سینتیسویں پیشگوئی۔ سینتیسویں پیشگوئی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ان ۷۲ اشتہارات کی تقریب پر جو آریہ قوم اور پادریوں اور سکھوں کے مقابل پر جاری ہوئے ہیں جوشخص مقابل پر آئے گا خدا اس میدان میں میری مدد کرے گا۔ اسی طرح اور بھی پیشگوئیاں ہیں جو متفرق کتابوں میں لکھی گئی ہیں۔ اور ایسے خوارق پانچ ہزار کے قریب پہنچ چکے ہیں جن کے دیکھنے والے اکثر گواہ اب تک زندہ موجود ہیں۔ اور ہر ایک شخص جو ایک مدت تک صحبت میں رہا ہے اس نے بچشم خود مشاہدہ کیا ہے اور کر رہے ہیں پس ان بدقسمت لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جو کہتے ہیں کہ جو