سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 494

سراجِ منیر — Page 65

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۶۷ سراج منیر یعنی وہ لوگ تیری مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ ڈالیں گے وہ دور دور سے اور بڑی گہری راہوں سے آئیں گے۔ چنانچہ اب وہ پیشگوئی جو آج کے دن سے سترہ برس پہلے لکھی گئی تھی ظہور میں آئی کس کو معلوم تھا کہ ایسے بچے اخلاص اور محبت سے لوگ مدد میں مشغول ہو جائیں (۵۸) گے دیکھو کہاں اور کس فاصلہ پر مدراس ہے جس میں سے خدا تعالی کا ارادہ سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا کو معہ ان کے تمام عزیزوں اور دوستوں کے کھینچ لایا جنہوں نے آتے ہی اخلاص اور خدمات میں وہ ترقی کی کہ صحابہ کے رنگ میں محبت پیدا کر لی اور کہاں ہے بیٹی جس میں منشی زین الدین ابراہیم جیسے مخلص پر جوش طیار کئے گئے اور کہاں ہے حیدر آباد دکن جس میں ایک جماعت پر جوش مخلصوں کی طیار کی گئی کیا یہ وہی باتیں نہیں جن کی نسبت پہلے سے براہین میں خبر دی گئی تھی ۔ اٹھارھویں پیشگوئی یہ پیشگوئی وہ ہے کہ جو براہین احمدیہ کے ص ۲۴۰ میں مندرج ہے یعنی یر قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون قل عندى شهادة من الله فهل انتم مسلمون یعنی کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے پس کیا تم اس پر ایمان لاؤ گے ۔ کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے۔ یہ دونوں فقرے بطور پیشگوئی کے ہیں اور ایسے آسمانی نشانوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو بطور پیشگوئی کے ہوں کیونکہ خدا کی گواہی نشان دکھلاتی ہے چنانچہ بعد اس کے یہ گواہی دی کہ خسوف کسوف رمضان میں کیا جیسا کہ آثار میں مہدی موعود کی نشانیوں میں آچکا تھا۔ پھر دوسری گواہی خدا نے یہ دی کہ آتھم کی پیشگوئی پر عیسائیوں نے واقعات کو چھپا کر مکر کیا اور یہودی صفت مولویوں نے ان کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی اور وہ شیطانی آواز تھی جو عیسائیوں کی حمایت میں زمین کے شیطانوں یعنی مولویوں نے دی پھر خدا نے اخفائے شہادت کے بعد آتھم کو ہلاک کیا اور اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے لیکھرام کے نشان کو ظاہر کیا اور وہ آسمانی آواز تھی جس نے شیطانی آواز کو کالعدم کر دیا یہی آثار نبویہ میں پہلے سے لکھا ہوا تھا جو آتھم کی پیشگوئی میں پورا ہوا تیسری خدا کی گواہی وہ پیشگوئی تھی جو جلسہ مذاہب سے پہلے شائع کی گئی تھی ۔ چوتھی