شحنۂِ حق — Page 461
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی حقّانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر واضح ہو کہ اس عاجزکے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء روز یکشنبہ میں پیدا ہوا تھا اور ۴ نومبر ۱۸۸۸ ء کو اُسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بُلایا گیا عجیب طور کا شورو غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افترا ہے انہوں نے اِس بچے کی وفات پر انواع و اقسام کی افترا گھڑنی شروع کی۔سو ہر چند ابتدا میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے۔لیکن جب یہ شورو غوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض لِلّٰہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسرِ متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء و ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ ء اور ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحبِ شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔بعض نے اپنی طرف سے افترا * کر کے یہ بھی یہ مفتری لیکھرام پشاوری ہے جس نے تینوں اشتہار مندرجہ متن اپنے اثبات دعویٰ کی غرض