شحنۂِ حق — Page 452
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۸ شحنه حق بقیه حاشیه : نام یعنی بین دوش کو جس کے معنے بے دوش کے ہیں اپنی قوم پر عائد کر لیا ہو اور پھر زبان سنسکرت میں نام کو آریہ اور زبان فارسی میں ایرانی دونوں ایک ہی مصدر یا د ھا تو ، آر سے نکلتے ہیں اور آریہ اور ایرانی کے اصلی معنے ہل چلا کر کھیتی کرنے والے کے ہیں اور حقیقتا یہ نام آریہ اس قوم کے لوگوں کا اس وقت تھا جب یہ صرف کھیتی کر کے ہل واہی کرنے سے روٹی کماتے تھے جیسے کہ آج تک اس پنجاب میں بھی کھیتی کرنے والے ارائیں کہلاتے ہیں اور اکثر اس پیشہ کے لوگ جانوروں خصوصا بیلوں پر ظلم بھی کیا کرتے ہیں اور بے زبان جانوروں کو اپنی ایسی چھڑی سے جس کے سرے پر ایک لوہے کی نوکدار کیل لگی ہوئی ہوتی ہے چھو چھو کر ہانکا کرتے ہیں اور اس سبب سے وہ نوکدار کیل ان کے نام سے نامزد ہو کر آر کہلاتی ہے ۔ پس جب اس قوم نے رفته رفته علم و ہنر و سوداگری میں ترقی کی تو آریہ نام کو جو صرف کھیتی کرنے والے کے لئے مخصوص تھا چھوڑ دیا اور بہ نسبت اس آریہ نام کے (اغلبا ) ہیں دوش کو جو رفتہ رفتہ ہندو ہو گیا ہے اپنی قوم پر عائد کر لیا اور یہ ہند و نام به نسبت آریہ نام کے اس قوم میں زیادہ رونق پا گیا۔ بقیه حاشیه در حاشیه : میں پوری پوری لیاقت اور آزادانہ طور پر گزران کر چکے ہیں اس وقت انہوں نے بھی اس نام پر کچھ اعتراض نہیں کیا پس جس حال میں ہندوؤں کے بزرگ اس نام پر رواج دیتے اور اپنے پر قبول کرتے رہے ہیں اور کوئی اعتراض اس پر نہیں کیا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس نام کو اچھا جانتے تھے نہ کہ برا۔ اور دیانند جی یا ان کے پیروؤں کا یہ فرمانا کہ ہندو نام ہماری قوم کا محمد یوں نے رکھا ہے بالکل غلط اور محض دھوکا ہے کیونکہ یہ نام ان کتابوں میں پایا جاتا ہے جو محمد صاحب کی پیدائش سے بہت پہلے لکھی گئی تھیں مثلاً آستر کی کتاب جو یہودیوں کی مقدس کتابوں میں درج ہے اور محمد صاحب کی پیدائش سے ایک ہزار برس پیشتر لکھی گئی تھی اس کے پہلے باب کی پہلی آیت میں ہے یہ وہی اخی سیورس یعنی شیر شاہ ہے جو ہندوستان سے کوش تک سلطنت کرتا تھا۔ پھر فلا دیں جو سفیس جو ایک بڑا یہودی مؤرخ گزرا ہے اور ۳۷ء میں پیدا ہوا تھا اور محمد صاحب کی پیدائش سے قریباً چھ سو برس پیشتر ہوگزرا ہے وہ اپنی تواریخ کی کتاب کے آٹھویں حصہ کے باب ۵ میں یوں لکھتا ہے کہ جیرام شاہ سور نے چند آدمی جو سمندر کے حال سے خوب واقف تھے سلیمان کے پاس بھیجے تا کہ وہ یہاں جہاز رانی کریں اور بادشاہ نے ان کو سرزمین او فیر میں بھیجا کہ جس کا نام اور یاما جس پر سونس ہے اور یہ زمین ہندوستان سے متعلق اور یہاں کا سونا نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ محمد صاحب کی پیدائش سے بہت پہلے یہ ملک ہندوستان کے نام سے نامزد اور مشہور و معروف تھا اور اغلبا اس کے باشندے ہندو کہلاتے تھے۔ الراقم ۔ ٹامس ہاول ۔ از پنڈ دادنخان